نظام آبادمیں سیاسی پشت پناہی کے سبب لینڈ گرابرس کے حوصلے بلند، متاثرین کی شکایت پر بھی کارروائی سے گریز لمحہ فکر
نظام آباد:27؍ اپریل (محمد جاوید علی کی رپورٹ )نظام آباد کے VI ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے علاقے میں واقع سروے نمبر 249 پر غیر مجاز پر قبضہ کرنے پر نارتھ تحصیلدار نے VI ٹاؤن پولیس کو قبضہ کرنے والے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک رپورٹ کی گئی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن افراد کو قبضے پر بیٹھا یا گیا یہ لینڈ گرابرس کی کارستانی ہے پولیس کی جانب سے زمین کو غیر مجاز طور پر قبضہ کرتے ہوئے فروخت کرنے والے افراد کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے گزشتہ چند دنوں سے سیاست نیوز کی جانب سے اس بارے میں مسلسل تحقیقات کرتے ہوئے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں اور عہدیداروں کی جانب سے غیر مجاز طور پر قبضہ کرنے والے افراد کے خلاف کاروائی بھی کرنے کا تیقن دیا گیا ۔ایک ہفتہ قبل سروے نمبر 252 پر غیر مجاز طور پر قبضہ کرتے ہوئے یہاں پر موجودہ سائن بورڈ کو ہٹا دیا گیا تھا اور چٹانوں کو دھماکوں کے ذریعے اڑا دیا جا رہا تھا اس بارے میں عہدیداروں کو واقف کروانے پر نارتھ تحصیلدار حرکت میں آتے ہوئے اس اراضی کو دوبارہ قبضہ کر لیا گیا اور یہاں پر دوبارہ سائن بورڈ کو نصب کیا گیالیکن غیر مجاز طور پر قبضہ کرنے والوں کے بارے میں ابھی تک کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے لینڈ گرابرس کے حوصلے بلند نظر آرہے ہیں اور لینڈ گرابرس کی جانب سے حکومت کی قیمتی سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے کے بارے میں مسلسل اخبار میں اطلاعات شائع کرنے پر انہیں بلراست طور پر دھمکیاں دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے اور اس بات کی لالچ دی جا رہی ہے کہ حکومت کی جانب سے صحافیوں کو پلاٹس مہیا کیا جا رہا ہے اگر اخبار میں اس طرح کی خبریں شائع کی گئی تو پلاٹ سے محروم ہونا پڑے گا۔ سیاست نیوز نے اس بارے میں تفصیلات حاصل کرتے ہوئے سروے نمبر 249 کے بارے میں جو غیر مجاز طور پر لینڈ گرابرس نے فروخت کرتے ہوئے پٹہ دیا تھا ایک متاثرہ خاتون سے بات کرنے پر بتایا کہ عقیل نامی شخص نے 50 ہزار روپے لے کرپٹہ دیا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی زمین رجسٹریشن کروایا ہے متاثرہ افراد کی کھلے عام شکایت کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے لینڈ گرابرس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے اور یہ بات لمحہ فکر ہے۔ تحصیلدار کی رپورٹ پر 6 ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں کیس بھی درج کیا گیا ریونیو عہدیداروں کی جانب سے لاپرواہی برتنے کی وجہ سے ہی اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہ علاقہ مضافتی علاقے میں ہونے کی وجہ سے لینڈ گرابرس من مانی کر رہے ہیں اور اس میں چند ریونیو کے عہدیدار بھی ملوث ہونے کی شکایت کی جا رہی ہے اور لینڈ گرابرس کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور لینڈ گرابرس واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا اگر اس طرح حکومت خاموش رہی تو حکومت کی قیمتی سرکاری اراضی لینڈ گرابرس کے لیے چاندی بن جائے گی۔
