lطلبہ کی تعداد پر جائزے کے بعد کلکٹرس کریں گے فیصلہ : محکمہ تعلیم
lاسکولس غیر حاضری پر بھی ایڈمیشن برقرار ، حاضری کے لیے دباؤ نہیں
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ماہ اگست کا اختتام اور ستمبر کی شروعات یکم ستمبر کے تصور سے مختلف شعبوں میں بے چینی پائی جاتی ہے چونکہ ریاستی حکومت نے یکم ستمبر سے اسکولس کھولنے کی اجازت دے دی ہے اور اس ضمن میں تیاریاں بھی جاری ہیں ۔ اس دوران محکمہ تعلیم نے اس بے چینی کو دور کرنے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے تاہم کورونا کی تیسری لہر اور بچوں کو متاثر کرنے کی قیاس آرائیاں ہنوز بے چینی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں ریاست بھر میں ایک نظام کے اپنے طریقہ میں تبدیلی لاتے ہوئے ایک دن کے وقفہ سے کلاسیس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اور یہ طریقہ ان اسکولس میں اپنایا جائے گا جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے ۔ کوویڈ قواعد کے علاوہ احتیاطی اقدامات اور حالات سے نمٹنے کے لیے اس اقدام پر غور کیا گیا ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے اسکولس کی جانچ اور کلاسیس میں طلبہ کی تعداد کی جانچ کے بعد فیصلہ کو اہمیت دینے کی ہدایت دی ہے اور ضلع کلکٹرس کو اسکولس اور کلاسیس کی جانچ کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ ایسی جماعتیں جہاں طلبہ کی تعداد زیادہ ہے وہاں ایک دن کے وقفہ سے کلاسیس منعقد کی جائیں گی ۔ طلبہ کی بڑی تعداد کے جمع ہونے والے مراکز سے ابھی بھی تشویش پائی جاتی ہے اور موثر انداز میں احتیاطی اقدامات کے باوجود طلبہ کی دیکھ بحال اور کوویڈ قواعد پر ان کی عمل آوری پر نظر رکھنا دشوار تصور کیا جارہا ہے ۔ لڑکپن ، شرارت ، کھیل کود کی ان کی مصروفیت پر بیک وقت نظر رکھنا مشکل ہے ۔ اب جب کہ ایک عرصہ کے بعد اسکولس کی کشادگی ہورہی ہے ایسے حالات خطرناک بھی ہوسکتے ہیں ۔ ریاست بھر میں 28 ہزار سے زائد سرکاری مدارس پائے جاتے ہیں جن میں 80 فیصد اسکولس میں تعداد 150 سے زائد ہوتی ہے اور 150 سے زائد طلبہ کی تعداد والے اسکولس 3 ہزار تک ہوسکتے ہیں ۔ اس طرح 100 سے زائد طلبہ والے اسکولس 6 ہزار ہوسکتے ہیں ۔ یعنی 100 سے کم طلبہ والے اسکولس کی اکثریت پائی جاتی ہے جن میں مسائل پیدا ہونے کے خدشات بہت کم ہوتے ہیں اور ایسے مقامات بھی پائے جاتے ہیں جہاں ایک ہی احاطہ میں 2 تا 3 اسکولس چلائے جارہے ہیں اور چند اسکولس میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہے ایسے اسکولس میں ایک دن کے وقفہ سے کلاسیس چلانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ اسکولس کے آغاز کے بعد ہی طلبہ کی تعداد اور شرکت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ لیا جائے گا ۔۔A
اسکولس حاضر ہونے کیلئے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائیگا
اسکولس حاضر ہونے کے لیے طلبہ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ طلبہ کے والدین پر فیصلہ کا اختیار رہے گا اور والدین سے کوئی تحریری اطمینان بھی حاصل نہیں کیا جارہا ہے جب کہ اسکولس حاضر نہ ہونے پر ایڈمیشن کو برخاست نہیں کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ دوپہر کے کھانے میں احتیاطی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ بھیڑ کو روکنے کے لیے مرحلہ وار سطح پر طلبہ کھانا فراہم کیا جائے گا ۔۔
خانگی اسکولس صرف دوپہر تک
سرکاری مدارس کے برخلاف خانگی اسکولس انتظامیہ نے طلبہ کو عادی ہونے تک اسکولس کو صرف دوپہر تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ہاف ڈے اسکول کورونا سے بچنے کے لیے بھی بہتر ہوں گے ۔ دوپہر کے بعد کلاسیس جاری رکھنے سے طلبہ بھیڑ کی شکل اختیار کرسکتے ہیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔