مڈڈے میل کی بدانتظامی ، فنڈز کا غلط استعمال ، طلبہ کے ساتھ بدسلوکی پر حکام کی کارروائی
حیدرآباد ۔ 27 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : ریاست کے سرکاری اسکولس میں بڑھتی ہوئی بے قاعدگیوں ، لاپرواہی اور فنڈز کے بیجا استعمال کی شکایتیں منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ اعلیٰ حکام کے مطابق مختلف اضلاع سے وصول ہونے والی شکایتوں نے تعلیمی نظام کے سنگین خامیوں کو بے نقاب کردیا ہے ۔ جن میں مڈ ڈے میل اسکیم کی بدانتظامی ، ٹیچرس کی غیر حاضری ، طلبہ کے ساتھ بدسلوکی اور صفائی کے ناقص صورتحال شامل ہیں ۔ مقامی عوام نے ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن سے شکایات کی ہیں جن میں چند ٹیچرس اپنے فرائض میں غفلت برت رہے ہیں ۔ خود غرضانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور اسکول کے مالیاتی معاملات میں بدعنوانی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ جس کے بعد فوری تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ وزار تعلیم کا قلمدان چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے پاس ہے ۔ کلکٹرس اور ڈی ای اوز ، چیف منسٹر کو جوابدہ ہے ۔ جس کی وجہ سے عہدیدار فوری حرکت میں آگئے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر اسکولس کے معائنے اور کارروائی کی جارہی ہے ۔ صرف ماہ نومبر میں 20 ٹیچرس اور ہیڈ ماسٹرس کو معطل کیا گیا ہے ۔ اعلیٰ عہدیدار بغیر کوئی اطلاع دئیے اچانک اسکولس کا دورہ کررہے ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ٹیچرس کی معطلی کے پیچھے کئی وجوہات ہیں ۔ جن میں پی ایم شری اسکیم کے فنڈز کا غلط استعمال ، نشے کی حالت میں اسکول پہونچنا ، طلبہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک ، سمیت غذا کے استعمال سے طلبہ کی صحت پر اثر پڑھنے ، سرکاری اسکیمات کے خلاف واٹس ایپ پر پیغامات پھیلانا اور اسکولس میں صفائی کو مکمل نظر انداز بھی شامل ہے ۔۔ 2