سرکاری اسکولوں میں آرٹیفیشل انٹلیجنس کو متعارف کرنے کی راہ میں انفرااسٹرکچر اہم رکاوٹ

   

محض 21 فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر کی سہولت، ٹیچرس بنیادی ٹریننگ سے محروم
حیدرآباد۔ یکم؍ مارچ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے تعلیمی شعبہ میں آرٹیفیشل انٹلیجنس بنیادی سطح پر متعارف کرنے کی مساعی کی جارہی ہے لیکن سرکاری اسکولوں کی صورتحال اس قابل نہیں کہ طلبہ کو عصری ٹیکنالوجی ہم آہنگ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے پہلی تا نویں جماعت کے نصاب میں آرٹیفیشیل انٹلی جنس کی شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم صرف 21 فیصد سرکاری اسکولوں میں کمپیوٹر کی سہولت موجود ہے جبکہ دیگر اسکولوں میں کمپیوٹر ایجوکیشن کا کوئی نظم نہیں۔ حکومت نے جاریہ تعلیمی سال اسکولوں میں نئی ٹیکنالوجی کو بطور نصاب متعارف کرنے کا فیصلہ کیا لیکن بیشتر سرکاری اور مجالس مقامی کے اسکولوں میں کمپیوٹرس کی کمی کے علاوہ تجربہ کار ٹیچرس دستیاب نہیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ٹکسٹ بکس تقسیم کئے گئے لیکن انفرااسٹرکچر کی کمی، انٹرنیٹ سے محرومی اور تجربہ کار ٹیچرس کی عدم دستیابی کے نتیجہ میں اسکیم پر عمل نہیں کیا جاسکا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے محض دو دن کے لئے ٹیچرس کی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا جس میں آرٹیفیشیل انٹلی جنس اور کوڈنگ سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئیں۔ ٹیچرس کا ماننا ہے کہ محض دو دن کی ٹریننگ کے نتیجہ میں وہ طلبہ کو عصری ٹیکنالوجی کی تربیت نہیں دے سکتے۔ کمپیوٹرس اور انفرااسٹرکچر کی کمی کے نتیجہ میں بیشتر سرکاری اسکولوں میں آرٹیفیشیل انٹلی جنس کا نصاب محض کاغذ تک محدود ہوچکا ہے۔ محکمہ تعلیم نے چھٹویں تا نویں جماعت کے لئے 15 چیاپٹرس پر مشتمل علیحدہ نصابی کتب تیار کئے ہیں۔ میاتھس مضمون کے ٹیچرس کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کوڈنگ اور ڈیٹا سائنس کی ٹریننگ دیں جبکہ فیزیکل سائنس کے ٹیچرس کو آرٹیفیشیل انٹلی جنس کی تربیت کے لئے کہا گیا ہے۔ انگلش اور سوشل اسٹیڈیز کے ٹیچرس کو ڈیجیٹل سٹیزن شپ جیسے اہم شعبہ میں تربیت کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ کورسیس تلنگانہ سوشل ویلفیر اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت چلنے والے ماڈل اسکولس، کستوربا گاندھی، بالیکا ودھیالیہ اور دیگر اداروں میں تجرباتی طور پر متعارف کئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے محض 21 فیصد سرکاری اسکولوں میں کمپیوٹر کی سہولت موجود ہے جبکہ قومی سطح پر یہ شرح 64.7 فیصد درج کی گئی۔ ریاست کے 30057 سرکاری اسکولوں میں صرف 6409 اسکولوں میں کمپیوٹر دستیاب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2529 میڈل آف سکنڈری اسکولوں میں آئی سی ٹی لیاب موجود ہے۔ ٹیچرس نے آرٹیفیشل انٹلیجنس جیسے اہم شعبہ کو بنیادی سطح پر متعارف کرنے کا خیرمقدم کیا تاہم ان کا ماننا ہے کہ کمپیوٹرس اور انفرااسٹرکچرس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ٹیچرس کو مناسب ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ 1