سرکاری اقامتی اسکولس اور ہاسٹلس کے ہنگامی اخراجات کیلئے 60 کروڑ کی منظوری

   

صحت بخش غذا سربراہ کرنے کی ہدایت، ڈائٹ چارجس اور عارضی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، اقامتی اسکولوں پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد 13 اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیت کے اقامتی اسکولوں میں ضروری کاموں کی تکمیل کے لئے چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے 60 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ اِس رقم کے ذریعہ اقامتی اسکولس اور ہاسٹلس کے طلبہ کو ڈائٹ چارجس، آؤٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہیں اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ضروری کاموں کی تکمیل کے لئے فنڈس کی اجرائی میں تاخیر کی شکایت پر ہر اقامتی اسکول سوسائٹی کے لئے رقمی منظوری دی ہے تاکہ عہدیدار فوری طور پر مرمتی کاموں کی تکمیل کرسکیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتی اقامتی اسکولس اور ہاسٹلس کی کارکردگی پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اقامتی اسکولوں میں طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بہتر سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ اُنھوں نے عہدیداروں سے کہاکہ بنیادی سہولتوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ عہدیداروں میں جوابدہی کا احساس پیدا کیا جائے تاکہ اقامتی اسکولوں کی کارکردگی بہتر ہو۔ اُنھوں نے طلبہ کو صحت بخش غذا کی سربراہی اور پکوان کے سلسلہ میں صحت و صفائی پر توجہ دینے کی ہدایت دی۔ اُنھوں نے کہاکہ طلبہ کو یونیفارم اور کتابیں بھی مقررہ وقت پر سربراہ کی جائیں۔ چیف منسٹر نے ہاسٹلس کے طلبہ کی صحت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی اور کہاکہ ہر ضلع میں گورنمنٹ اور پرائیوٹ میڈیکل کالجس کے علاوہ کمیونٹی ہیلت سنٹرس اور ایریا ہاسپٹلس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ہاسٹلس میں ہیلت کیمپس وقفہ وقفہ سے منعقد کئے جائیں تاکہ طلبہ کو صحتمند رکھنے میں مدد ملے۔ ضلع کلکٹرس اور ایڈیشنل کلکٹرس کو اِس سلسلہ میں اقدامات کرنے چاہئے۔ چیف منسٹر نے اقامتی اسکولوں کے طلبہ کو اسکالرشپ، ملازمین کی تنخواہوں، ڈائٹ چارجس، تعمیری اور مرمتی کاموں اور دیگر اخراجات کے سلسلہ میں متعلقہ سوسائٹیز کو بقایہ جات جلد جاری کرنے کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ بقایہ جات کے سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ طلبہ کو کسی طبی امداد کے سلسلہ میں ڈاکٹرس کو 24 گھنٹے آن لائن چوکس رکھا جائے۔ چیف منسٹر نے طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی کوچنگ کی فراہمی کا مشورہ دیا۔ اُنھوں نے مرکزی حکومت سے اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے سلسلہ میں فنڈس کے حصول میں تیزی پیدا کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے مختلف محکمہ جات کے سکریٹریز کو فی کس 10 کروڑ روپئے کا چیک حوالہ کیا۔ جائزہ اجلاس میں وزیر بی سی ویلفیر پونم پربھاکر، وزیر ایس ٹی و اقلیتی بہبود لکشمن کمار، فلاحی محکمہ جات کے اسپیشل چیف سکریٹری سبیا ساچی گھوش، چیف منسٹر کے مشیر نریندر ریڈی، چیف منسٹر کے پرنسپل سکریٹری شیشادری، اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کانتی ویزلی آئی اے ایس اور دوسروں نے شرکت کی۔1