سرکاری اور آر ٹی سی ملازمین کو کتوں سے تشبیہ دینے پر احتجاج کی دھمکی

   

کے سی آر مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں سنجیدہ نہیں، سابق رکن کونسل راملو نائک کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 23 ستمبر (سیاست نیوز) سابق رکن کونسل راملو نائک نے سرکاری ملازمین اور آر ٹی سی ملازمین سے اپیل کی کہ وہ چیف منسٹر کے ریمارکس کے خلاف احتجاج منظم کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راملو نائک نے کہا کہ کے سی آر نے کل اسمبلی میں تصرف بل پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کو کتوں سے تعبیر کیا اور پی آر سی اور فٹ منٹ کے مطالبہ کو غیر واجبی قرار دیا تھا۔ راملو نائک نے کہا کہ اگر این جی اوز تلنگانہ تحریک کے دوران 50 دن تک احتجاج نہ کرتے تو علیحدہ تلنگانہ تشکیل نہ پاتا۔ تحریک کے دوران کے سی آر نے این جی اوز کو بھگوان کہا تھا لیکن آج وہی لوگ چیف منسٹر کی نظر میں شیطان ہوگئے۔ آر ٹی سی ملازمین نے 27 دن تک مسلسل ہڑتال کی تھی اور کے سی آر نے انہیں بڑا بھائی کہا تھا۔ اب آر ٹی سی کے ملازمین ان کے لیے بھوت بن چکے ہیں۔ راملو نائک نے کہا کہ جو کوئی اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو چیف منسٹر پسند نہیں کرتے۔ اسمبلی میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا کے ساتھ توہین آمیز گفتگو کرتے ہوئے دلتوں کی توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے مطابق انتخابات میں این جی اوز کچھ نہیں کرسکتے اور ان کے پاس ووٹ کی طاقت نہیں ہے۔ راملو نائک نے کہا کہ این جی اوز کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا وہ مخالف چیف منسٹر ریمارکس کو برداشت کرلیں گے یا پھر عزت نفس کی خاطر آواز بلند کریں گے۔ چندرا بابو نائیڈو نے جب این جی اوز کو نظرانداز کیا تو انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ تلنگانہ میں اب کے سی آر کی داداگری نہیں چلے گی اور این جی اوز اور آر ٹی سی ملازمین انہیں سبق سکھائیں گے۔ راملو نائک نے وزیر آبکاری سرینواس گوڑ سے سوال کیا کہ وہ گزیٹیڈ آفیسر کے سابق صدر کی حیثیت سے توہین کس طرح برداشت کررہے ہیں۔ انہیں استعفیٰ دے کر کابینہ سے باہر آنا چاہئے۔ دیوی پرساد سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ احتجاج کے لیے تیار ہوجائیں۔ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے لیے 12 فیصد تحفظات کے سلسلہ میں کے سی آر پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے راملو نائک نے کہا کہ بلدی انتخابات کے پیش نظر کے سی آر نے دوبارہ تحفظات کا مسئلہ چھیڑ دیا ہے۔ وہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی ہمدردی کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 0.5 فیصد طبقے کا چیف منسٹر اور 3 وزراء ہیں جبکہ 12 فیصد مسلمانوں کو صرف ایک نمائندگی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کے واحد مسلم رکن اسمبلی عامر شکیل کو کابینہ میں شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ انہوں نے تحفظات کے لیے وزیراعظم سے کتنی مرتبہ نمائندگی کی۔ راملو نائک نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت غریب ضرور ہیں لیکن وہ اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کریں گے۔ ہم حکومت سے بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔