سرکاری تقررات میں 12 فیصد تحفظات پر عمل سے مسلم نوجوانوں کو فائدہ ہوگا

   

Ferty9 Clinic

حکومت کے سنجیدہ اقدامات سے عمل آوری ممکن ۔ تقررات کے فیصلے سے نوجوانوں میں جوش و خروش

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔10۔مارچ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے 80 ہزار 39جائیدادوں پر تقررات کے اعلان کے ساتھ ہی نوجوانوں میں جوش و خروش پیدا ہوچکا ہے لیکن اگر وعدہ کے مطابق مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی عمل میں لائی جاتی تو 9ہزار 605جائیدادوںپر مسلم نوجوانوں کو تقررات ممکن تھے لیکن اب جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں 4فیصد مسلم تحفظات پر عمل کیا جائے گا اور مجموعی اعتبار سے کم از کم 3202 مسلم نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل ہوں گی ۔حکومت نے 16اپریل 2017کو ریاست میں سماجی و معاشی طور پر پسماندہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے بل کو منظور کرکے تحفظات کوٹہ میں ترمیم اور اضافہ کیلئے مرکز کوروانہ کیا جاچکا ہے لیکن اس پر تاحال مرکز نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ریاستی حکومت اگر فیصلہ پر قائم رہتے ہوئے 80ہزار جائیدادوں کے تقررات میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرتی ہے تو تلنگانہ کے معاشی اور سماجی پسماندہ مسلم نوجوانوں کیلئے ترقی کی راہیں ہموار ہونگی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤنے تحریک تلنگانہ کے دوران مسلمانوں سے کئے گئے وعدو ںکو پورا کرنے کا متعدد مرتبہ تیقن دیا ہے لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں حکومت 12 فیصد تحفظات کی قرارداد کی بنیاد پر تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کرتی ہے تو حکومت کو تمام سیکولر جماعتوں و تنظیموں کی حمایت حاصل ہوگی ۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے اور تحریک تلنگانہ کے دوران علحدہ ریاست کی حمایت کرنے والی تنظیموں اور جماعتو ںکے قائدین نے متعدد مرتبہ متحدہ آندھرا پردیش میں مسلم نوجوانوں کے ساتھ ناانصافیوں بالخصوص ملازمتوں میں نظرانداز کرنے پر توجہ دلائی تھی اور توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد تمام طبقات کے ساتھ مسلمانوں کیلئے خوشحالی کا دور آئے گا۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ایوان اسمبلی میں 80 ہزار تقررات کے اعلان کا جائزہ لیا جائے تو موجود ہ 4 فیصد تحفظات کے مطابق 3201.56 یعنی 3202 مسلم نوجوانوں کو تو ملازمت حاصل ہوگی لیکن اگر 12فیصد تحفظات کے مطابق تقررات ہوتے ہیں تو 9604.68 یعنی 9605 مسلم نوجوانوں کو ملازمت حاصل ہوسکتی ہے۔ تقررات کے اقدامات کے دوران حکومت کو اس مسئلہ پر متوجہ کروائی جاتی ہے تو تو کم ازکم 6000 نوجوانوں کا فائدہ ہوگا ۔ اگر تلنگانہ راشٹر سمیتی کے مسلم قائدین کے علاوہ مسلم نمائندوں کی جانب سے حکومت کو 12فیصد تحفظات کیلئے متوجہ کیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ مسلم نوجوانوں کو ہوگا۔ حکومت نے تلنگانہ میں ڈبل بیڈ روم اسکیم کے استفادہ کنندگان میں اپنے اختیار تمیزی کا استعمال کرکے 10 فیصد مسلمانوں کو شامل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرز پر حکومت یہ کاروائی بھی کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔ماہرین قانون کے مطابق اگر مسلم تحفظات میںاضافہ کیلئے از سرنو قانون سازی کرکے اضافہ کیا جاتا ہے تو حکومت کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا اور اگر کوئی اس فیصلہ کے خلاف قانونی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو تقررات کا انحصار عدالت کے فیصلہ پر ہوسکتا ہے اسی لئے سماجی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے مسلم تحفظات میں اضافہ کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ علاوہ ازیں بجٹ تقریر کے دوران وزیر فینانس نے تلنگانہ میں EWS زمرہ کیلئے 10 فیصد تحفظات پر عمل کو یقینی بنانے کا جو تذکرہ کیا ہے اگر اس میں غیر محفوظ زمرہ کے مسلم نوجوانوں کو ملازمتوں کیلئے سرٹیفیکیٹ کی اجرائی عمل میں آتی ہے تو بھی اقلیتی نوجوانوں کو ملازمتوں میں ان کا حق دلوایا جاسکتا ہے۔