سرکاری دواخانوں میں عملہ کی کمی سے مریضوں کو مشکلات

   

مخلوعہ جائیدادوں پر عدم تقررات اہم وجہ
حیدرآباد۔17فروری(سیاست نیوز) سرکاری دواخانوں کی ابتر حالت کے لئے ان دواخانوں میں مخلوعہ جائیدادیں ہیں جن پر تقررات نہ کئے جانے کے نتیجہ میں سرکاری دواخانوں سے رجوع ہونے سے عوام گریز کرتے ہیں۔ حکومت اگر سرکاری دواخانوں میں خدمات کو بہتر بنانے چاہتی ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ سرکاری دواخانوں میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے عمل کو تیز کرتے ہوئے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے۔ گورنمنٹ ہاسپٹل فار مینٹل کیئر‘ایرہ گڈہ میں نصف جائیدادیں مخلوعہ ہیں اور اس دواخانہ میں ذہنی امراض میں مبتلاء افراد کو نہ صرف رکھا جاتا ہے بلکہ ان کے علاج کے لئے وہاں اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ایرہ گڈہ میں واقع نفسیاتی امراض کے دواخانہ میں خدمات انجام دینے والوں کی منظورہ تعداد اور خدمات انجام دینے والوں کی تعداد میں کافی فرق ہے اورکئی جائیدادوں کے مخلوعہ ہونے کے باوجود ان پر تقررات کے معاملہ میں کی جانے والی کوتاہی سے دواخانہ کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔سرکاری دواخانہ برائے ذہنی امراض ‘ ایرہ گڈہ جملہ منظورہ جائیدادوں کی تعداد 312 ہے ان میں محض164 جائیدادوں پر عملہ خدمات انجام دے رہا ہے اس اعتبار سے 148جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ قانون حق آگہی کے تحت حاصل کی جانے والی معلومات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ایرہ گڈہ میں ذہنی امراض کا شکار مریضوں کے علاج و معالجہ کے لئے منظورہ عملہ بھی موجود نہیں ہے جو کہ ذہنی امراض کا شکار مریضو ں کے علاج میں دشواریوں کا سبب بننے لگا ہے۔ آرٹی آئی جہدکار جناب کریم انصاری کی جانب سے طلب کردہ تفصیلات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مجموعی اعتبار سے منظورہ 312 جائیدادوں میں 148 مخلوعہ عہدوں میں نہ صرف درجہ چہارم کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے شامل ہیںبلکہ کئی سرکردہ عہدوں پر خدمات انجام دینے والے عملہ کی بھی جائیدادیں مخلوعہ ہیں جن کا راست تعلق ذہنی امراض کے علاج و معالجہ کے علاوہ انہیں قابو میں رکھنے سے ہے۔ذہنی امراض کا شکار مریضوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں بہتر سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانی ہوتی ہے لیکن اگر ان کے لئے قائم خصوصی مرکز ودواخانہ میں ہی عملہ کی قلت ہوتو ایسی صورت میں انہیں خصوصی نگہداشت کس طرح فراہم کی جاسکتی ہے اس مسئلہ پر محکمہ صحت کو ہی نہیں بلکہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو بھی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان مریضوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کی ہدایت جاری کرنی چاہئے ۔3