نمس کے علاج پر عدم اطمینان ، ڈائرکٹر نمس کا خانگی کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج پر تنقیدیں
حیدرآباد۔7۔ستمبر۔(سیاست نیوز) سرکاری ملازمت کی خواہش تو سب کی ہوتی ہے لیکن سرکاری محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والوں کو ہی سرکاری اداروں پر اعتماد نہیں ہے ۔سرکاری اسکولوں میں تعلیم دینے والے اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخلہ نہیں دلواتے اورسرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس اپنا علاج سرکاری دواخانوں میں نہیں کرواتے ہیں اس بات کی مثال نمس کے ڈائریکٹر کو شہر کے سرکردہ خانگی کارپوریٹ دواخانہ میں شریک کیا جانا ہے۔ ڈائریکٹر نمس ہاسپٹل ڈاکٹر کے منوہر کو دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اپولو ہاسپٹل سے رجوع کئے جانے پر مختلف گوشوں سے تنقید کی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہاہے کہ ریاست کے سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتر بنایا گیا ہے اور گذشتہ تین برسوں کے دوران ریاست سرکاری دواخانوں پر ریاست کے عوام کے اعتماد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ آج دن میں ڈاکٹر کے منوہر کو دل کا دورہ پڑنے پر انہیں اپولو ہاسپٹل میں شریک کیا گیا جبکہ نمس میں سالانہ 47ہزار افراد شریک دواخانہ ہوتے ہوئے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر کے منوہر کو نمس کے بجائے اپولو ہاسپٹل میں شریک کئے جانے پر دواخانہ کے عملہ نے ناراضگی اظہار کیا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ سال گذشتہ نمس ہاسپٹل میں زائد از 25ہزار آپریشن کئے گئے ہیں اور 3لاکھ مریضوں کے معائنے کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر ڈائریکٹر نمس کو دل کا دورہ پڑنے پر خانگی کارپوریٹ دواخانہ میں علاج کے لئے شریک کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خود ڈائریکٹر نمس کو ان کی اپنی نگرانی میں چلائے جانے والے دواخانہ کے عملہ اور دواخانہ کی سہولتوں پر اعتماد نہیں ہے۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ سرکاری ملازمت اور عہدوں کی خواہش تو سب کو ہوتی ہے لیکن سرکاری سہولتوں بالخصوص طبی سہولیات اور تعلیم سہولتوں کے استعمال کے معاملہ میں سرکاری ملازمین کی جانب سے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی جاتی ۔ ڈاکٹر کے منوہر کو خانگی کارپوریٹ ہاسپٹل میں شریک کئے جانے کے بعد یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ سرکاری دواخانوں میں سہولتیں موجود نہیں ہیں اور ان سہولتوں کو بہتر بنانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ جب دواخانہ کے ڈاکٹرس ہی اپنے علاج کے لئے کارپوریٹ دواخانوں سے رجوع ہونے لگ جائیں تو عوام کا اعتماد سرکاری دواخانوں پر کس طرح باقی رہے گا!۔م