سرکاری محکمہ جات کے درمیان تنازعات کے منفی اثرات

   

کئی محکمہ جات کا مالیہ بھی متاثر ، ریاستی حکومت کی نگرانی میں یکسوئی کے اقدامات ضروری
حیدرآباد۔13اگسٹ(سیاست نیوز) سرکاری محکمہ جات کے درمیان عدالتوں میں جاری مقدمات کے سبب ریاست کے بیشتر محکمہ جات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور تلنگانہ عوام پر بھی سرکاری محکمہ جات کے درمیان جاری تنازعات کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے بیشتر اضلاع میں سرکاری محکمہ جات کے درمیان جاری قانونی تنازعات کا محکمہ جات کے مالیہ پر بھی اثر ہورہا ہے اور تنازعات کی عدم یکسوئی کے سبب محکمہ جات کی ساکھ بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں ہی محکمہ جاتی تنازعات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ کس طرح کے حالات سے محکمہ جاتی عہدیدار دوچار ہونے لگے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے محکمہ آبرسانی اور برقی کے عہدیدارو ںکو مکتوب روانہ کرتے ہوئے غیرمجاز تعمیرات کو برقی اور آبرسانی کنکشن جاری نہ کرنے کی خواہش کی گئی اور تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں اس اقدام کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا لیکن جی ایچ ایم سی کی جانب سے روانہ کئے جانے والے اس مکتوب پر محکمہ برقی کی جانب سے کوئی عمل آوری نہیں کی جار ہی ہے اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے اعتراض کی صورت میں محکمہ برقی نے عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی عہدیدارو ںکا کہناہے کہ محکمہ آبرسانی اور برقی کی جانب سے تعاون حاصل ہونے کی صورت میں غیر مجازتعمیرات کو روکنے میں اہم پیشرفت حاصل ہوسکتی ہے اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے یہ پالیسی تیار کی گئی ہے۔ محکمہ برقی بالخصوص تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ کے عہدیداروں کہا کہناہے کہ ان کی کمپنی برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کررہی ہے اور اگر انہیں کوئی درخواست وصول ہوتی ہے اور درخواست گذار کی جانب سے شرائط کی تکمیل کی جاتی ہے تو کوئی اور ادارہ یا محکمہ انہیں کنکشن دینے سے روک نہیں سکتا اسی لئے انہیں بلدیہ کی جانب سے موصول ہونے والے مکتوب کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اسی طرح کی صورتحال ریاست کے کئی محکمہ جات کے درمیان ہے اور ان محکمہ جاتی قانونی تنازعات کی ریاستی حکومت کی نگرانی میں یکسوئی کے اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس کے لئے ذیلی کابینی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں محکمہ جات کے مالیہ اور عدالت کے وقت کو بچانے کے علاوہ مقدمات کو بھی بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔