حیدرآباد۔24 جولائی (سیاست نیوز) ملک میں آزاد خیال دانشوروں کے ذریعہ آر ایس ایس ایسے مسلم اداروں پر بھی قابض ہونے کی کوشش کر نے لگی ہے جہاں سے عام مسلمانوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوا جاسکے۔ سرکاری اداروں اور مرکزی زیر انتظام جامعات میں وائس چانسلرس کے عہدوں پر اپنے پیروکاروں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کروانے کے بعد خانگی اداروں اور انجمنوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔دہلی میں موجود انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر جو کہ سوسائیٹی ایکٹ کے تحت ہے اور ملک بھر کے سرکردہ بااثر مسلمانوں کے مرکز کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے ۔ اس ادارہ میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری آپسی تنازعات کے نتیجہ میں چند ماہ سے اس مرکز کی صدارت کے عہدہ پر کوئی فائز نہیں ہے بلکہ عدالت نے نگران مقرر کرتے ہوئے اس مرکز کو چلانے کی ہدایت دی ہے۔ نگران نے عدالت کے احکام کے مطابق اب جبکہ انڈیا اسلامک کلچر سنٹر کے صدر ‘ ٹرسٹیزکے علاوہ کمیٹی کے دیگر ذمہ داروں کے انتخابات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے تو آر ایس ایس کی محاذی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ سے قربت رکھنے والے امیدواروں کو بھی آر ایس ایس نے میدان میں اتارتے ہوئے ان کی کامیابی کی راہیں ہموار کرنے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔انڈیا اسلامک کلچر سنٹر کے انتخابات کے لئے مہم اب اپنے شباب پر ہے اور 13عہدوں کے لئے جملہ 78امیدوار میدان میں ہیں۔ انڈیا اسلامک کلچر سنٹر کے انتخابات صرف ملک بھر میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں لڑا جانے والا انتخاب ہے کیونکہ اس مرکز کے اراکین ور ائے دہندے دنیا کے کئی ممالک میں موجود غیر مقیم ہندستانی بھی ہیں۔ ہندستان کے دارالحکومت میں موجود اس مرکز میں گذشتہ 5 برسوں سے آر ایس ایس کی سرگرمیوں کا اثر بڑھنے لگا تھا اور اب تو حد یہ ہوگئی ہے کہ مسلم راشٹریہ منچ سے تعلق رکھتے ہیں نے اپنا پیانل اس اسلامک مرکز کے انتخابات میں میدان میں اتارا ہے اور ان کے مقابلہ میں سابق مرکزی وزیر جناب سلمان خورشید کا پیانل موجود ہے ۔ ان دو پیانل کے علاوہ مزید تین پیانل انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ڈاکٹر ماجداحمد تالی کے پیانل کو آرایس ایس ‘ مسلم راشٹریہ منچ کی حمایت والا پیانل قراردیا جا رہاہے اور خود ڈاکٹر ماجد احمد تالی مسلم راشٹریہ منچ سے اپنے تعلق کو اپنی طاقت کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔ علاوہ ازیںاس پیانل کو انڈیا اسلامک کلچرسنٹر کے سابق صدر سراج قریشی کا پیانل بھی کہا جا رہاہے کیونکہ وہ 75 سال کے ہوچکے ہیں اسی لئے انتخابات میں راست حصہ لینے کی بجائے ڈاکٹر ماجد احمد تالی کی تائید کرتے ہوئے اس پیانل کو میدان میں اتارے ہیں اور وہ خود بورڈ آف ٹرسٹی کے عہدہ کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے فرزندسمر قریشی عاملہ کے رکن کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر قانون جناب سلمان خورشید جو مرکز کی صدارت کے لئے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان کے پیانل میں شہزاد خان‘ سکندر حیات خان‘ ابوذر حسین خان‘ محترمہ صفیہ بیگم کے علاوہ آصف جاہ شامل ہیں جبکہ ایک اور پیانل ابرار احمد سابق آئی آر ایس کا ہے جس میں سراج قریشی کے کئی ساتھی شامل ہیں۔انڈیا اسلامک کلچر سنٹر کی صدارت اور انتظامی عہدوں کے لئے ہونے والے انتخابات کے لئے پہلی مرتبہ کوئی غیر مسلم مقابلہ کر رہا ہے جو کہ آصف حبیب کے پیانل میں ہے۔ شیویندر تومر آصف حبیب کے پیانل میں بورڈ آف ٹرسٹیز کے عہدہ کے لئے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس مرکز کے قیام کا مقصد قومی سطح پر مسلمانوں کی سرکاری ملازمتوں میں حصہ داری میں اضافہ کے لئے نوجوانوں کی تربیت ‘ اسلام کے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے دیگر مذاہب کے نمائندوں سے مذاکرات ‘ مسلم طلبہ کو سیول سروس امتحانات میں حصہ لینے کے لئے راغب کرنا ‘ ہندستانی معاشرہ کے آگے اسلام کی حقیقی شبیہ کو پیش کرنا اور بین مذہبی روابط کو قائم کرتے ہوئے انہیں فروغ دینا تھا اور اسی مقصد کے تحت آنجہانی اندرا گاندھی نے 1983 میں اس مرکز کے قیام کے لئے 8000 مربع میٹر اراضی دارالحکومت کے قلب میں حوالہ کی تھی اور بانی ہمدرد یونیورسٹی حکیم عبدالحمید صاحب نے اس اراضی کی قیمت حکومت کو ادا کی ۔ اس مرکز کے ابتدائی دور میں 1983 سے 1993 کے دوران اس مرکز سے 200 طلبہ نے تعلیم حاصل کرتے ہوئے سرکاری محکمہ جات میں ملازمت حاصل کی لیکن اب یہ سلسلہ نہ کے برابر رہ گیا ہے۔ انڈیا اسلامک کلچر سنٹر کے قیام کی تجویز کے دوران اس کا نام انڈیا اسلامک سنٹر تھا لیکن آنجہانی اندرا گاندھی کی تجویز پر اس میں کلچر کا اضافہ کرتے ہوئے اسے انڈیا اسلامک کلچر سنٹر کا نام دیا گیا اور فی الحال اس کے 2050 اراکین و رائے دہندے ہیںجن میں 275 غیر مسلم رائے دہندے شامل ہیں۔ ڈاکٹرسید ظفر محمودزکواۃ فاؤنڈیشن بھی بورڈ آف ٹرسٹیز کے لئے آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔3