سرکاری ملازمین کو 7.5 فیصد فٹمنٹ ، وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر 60 سال

,

   

سرکاری کمیٹی کی ملازمین سے مشاورت سے قبل پی آر سی کی سفارشات منظر عام پر، تنظیموں کی برہمی

حیدرآباد: تلنگانہ کے سرکاری ملازمین اور پنشنرس کو حکومت کی جانب سے پی آر سی سے متعلق کئی اہم اعلانات کی امید تھی لیکن پے ریویژن کمیشن کی سفارشات منظر عام پر آتے ہی ملازمین کی یونینوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے چیف سکریٹری کی قیادت میں سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ ملازمین کی تنظیموں سے مذاکرات کئے جائیں۔ کمیٹی کے مذاکرات سے عین قبل پی آر سی کی سفارشات منظر عام پر آئیں جس میں سرکاری ملازمین کو بنیادی یافت پر 7.5 فیصد فٹمنٹ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں دو سال اضافہ کرتے ہوئے 60 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 250 سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی اے چونکہ یکم جولائی 2018 ء کو تنخواہ میں ضم کردیا گیا ، لہذا نئی تنخواہوں پر عمل آوری اسی دن سے شروع ہوچکی ہے ۔ کمیشن نے کہا کہ حکومت اپنے مالی موقف کا جائزہ لیتے ہوئے اور دیگر مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاشی امداد سے متعلق تاریخ کا تعین کرسکتی ہے۔ کمیشن نے مرکزی حکومت کی طرح سال میں دو مرتبہ ڈی اے کے اعلان کی تائید کی ہے۔ کمیشن نے زیادہ تعلیم یافتہ افراد کیلئے خصوصی انکریمنٹ کی سفارش نہیں کی ہے۔ پے ریویژن کمیشن نے چائیلڈ کیر لیو کو 90 دن سے بڑھاکر 120 دن کرنے کی سفارش کی ہے۔ معذور بچوں کی پیدائش کی صورت میں یہ رخصت 90 دن سے 2 سال تک دی جاسکتی ہے۔ مرکزی حکومت کے قواعد کے مطابق معذور بچوں کی نگہداشت کیلئے دو سال کی رخصت کی گنجائش ہے ۔ پہلے 365 دن مکمل تنخواہ ادا کی جائے گی جبکہ آئندہ 365 دنوں کے لئے 80 فیصد تنخواہ دی جائے گی ۔ واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کی تنظیمیں60 فیصد سے زائد فٹمنٹ کی مانگ کر رہے ہیں۔ گریجویٹی کی حد کو 12 لاکھ سے بڑھاکر 16 لاک کرنے کی سفارش کی ہے۔ ملازمین کی تنظیموں نے پی آر سی کی سفارشات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چیف سکریٹری کو ملازمین کے نمائندوں سے بات چیت کی ہدایت دی ہے جس پر آج ہی عمل کیا گیا۔

پی آر سی رپورٹ کے خلاف
ملازمین کا احتجاج
حیدرآباد۔ سرکاری ملازمین کے قائدین نے آج پی آر سی رپورٹ کے خلاف بی آر کے آر بھون سکریٹریٹ پر احتجاج کیا۔ کئی سینئر عہدیدار اور خاتون ملازمین نے اس میں حصہ لیا اور ان کے مطالبات کی تکمیل کیلئے نئی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ پی آر سی رپورٹ میں ان کے مطالبات کی عدم تکمیل پر انہوں نے چیف منسٹر کے خلاف نعرے بھی لگائے اور ٹی آر ایس حکومت کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا۔ پولیس نے احتجاجی عہدیداروں کو زبردستی وہاں سے ہٹادیا۔ ریاستی وزیر سرینواس گوڑ نے ملازمین کے شبہات کو دور کیا اور کہا کہ چیف منسٹر ان کے مطالبات کی یقینا سنوائی کریں گے اور یہ قطعی رپورٹ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت نے اس کا اعلان کیا ہے۔