سرکاری ملازمین کو جون کی تنخواہ بھی مکمل ادا کرنے کے امکانات نہیں

   

ریاست کے بانڈس کی فروخت کے ذریعہ معاشی ضرورتوں کی تکمیل
تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی مرتبہ ریاستی حکومت کو معاشی بحران کا سامنا

حیدرآباد۔10جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست کے بانڈس کی فروخت کے ذریعہ اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کررہی ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلی مرتبہ ریاستی حکومت کو اس صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ ریزروبینک آف انڈیا کی جانب سے فراہم کردہ بانڈس کی فروخت کے ذریعہ اپنے اخراجات کی تکمیل کررہی ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے سرکاری ملازمین کو ماہ جون کی تنخواہ بھی مکمل ادا کئے جانے کے امکانات نہیں ہیں اور نہ ہی ریاستی حکومت اس مسئلہ پر غور کرنے کے موقف میں ہے کہ ماہ جون کی مکمل تنخواہ ادا کی جائے ۔ ذرائع کے مطابق ماہ جون کی تنخواہ میں بھی سرکاری ملازمین کو کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں لاک ڈاؤن کی مدت میں جو تنخواہ ادا کی جا رہی تھی وہی تنخواہ ادا کی جائے گی۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے بتایا کہ ملازمین کو مکمل تنخواہ کی ادائیگی کے امکانات موہوم ہیںکیونکہ حکومت تلنگانہ کو ماہانہ 5500 کروڑ روپئے بطور آمدنی بذریعہ محصولات حاصل ہوا کرتی تھی لیکن تین ماہ کے دوران ریاستی حکومت کی آمدنی میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور ماہ مارچ کے بعد سے ریاستی حکومت کی جانب سے بانڈس کی فروخت کے ذریعہ اخراجات کی تکمیل عمل میں لائی جا رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ کو 15ہزر کروڑ کے بانڈس کی فروخت کی ریزرو بینک آف انڈیا جانب سے اجازت حاصل ہے اور ان بانڈس کا ماہ ڈسمبر میں ہراج کیا جاتا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تاحال 10ہزار 500کروڑ روپئے بانڈس کی فروخت کے ذریعہ حاصل کئے جاچکے ہیں

اور کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت نے آئندہ تین ماہ کے دوران مزید 4500 کروڑ بانڈس کی فروخت کے ذریعہ حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق سال 2014 میں تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاستی حکومت کو پہلی مرتبہ اس طرح کے حالات کا سامنا ہے کہ ریزرو بینک کی جانب سے فراہم کی جانے والی حد کو مکمل طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ تلنگانہ حکومت تلنگانہ کوماہانہ 5500 کروڑکی آمدنی محصولا ت کے ذریعہ ہوا کرتی تھی لیکن ماہ مئی کے دوران لاک ڈاؤن میں رعایت اور کئی خدمات بحاکل کئے جانے کے باوجود بھی تلنگانہ کو محض 2ہزار کروڑ روپئے حاصل ہوئے ہیں جو کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے بھی ناکافی ہیں۔ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے بانڈس کی فروخت اور ان کے ہراج کی مدت میں تخفیف کرتے ہوئے اسے 9ماہ کئے جانے کے بعد ریاستی حکومت جلد از جلد ان بانڈس کو بھی فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ریاست کی معاشی ابتری پر قابو پانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت تلنگانہ نے گذشتہ یوم بانڈس کی فروخت کے ذریعہ مزید 2500 کروڑ کے حصول کی منظوری دے دی ہے ۔