سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کیلئے آرڈیننس جاری

   

اساتذہ اور ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے دستبرداری کا مطالبہ
حیدرآباد۔17جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں‘ اعزازیہ اور وظائف کی اجرائی میں تاخیر کو قانونی شکل دے دی ہے اور اس سلسلہ میں آرڈیننس جاری کرتے ہوئے گزٹ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔حکومت تلنگانہ نے ریاست میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں‘ وظائف اور اعزازیہ میں کی جانے والی کٹوتی کو قانون بنانے کے لئے تلنگانہ ڈساسٹر اینڈ پبلک ہیلت ایمرجنسی آرڈیننس 2020 جاری کرتے ہوئے ملاز مین کو بڑا دھکا دیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون 24مارچ 2020سے نافذالعمل ہوگا اور جو کٹوتی کی جا رہی ہے اس آرڈیننس کے مطابق بقایاجات کی اندرون 6ماہ ادائیگی حکومت کو کرنی ہوگی لیکن آرڈیننس میںحکومت کو ترمیم کا مکمل استحقاق دیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس آرڈیننس کے ذریعہ لاک ڈاؤن کے ساتھ حکومت نے جن ملازمین ‘ عوامی نمائندوں ‘ عہدیداروں ‘ کنٹراکٹ ملازمین اور عارضی ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے ساتھ وظیفہ یابان کے وظائف میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے وہ برقرار رہے گا۔

تلنگانہ ہائی کورٹ میں وظیفہ یابان کی درخواست کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت کے اقدامات کی سرزنش اور آج سماعت کے مقرر کئے جانے کے بعد حکومت تلنگانہ نے صبح کی اولین ساعتوں میں آرڈیننس جاری کردیا اور سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل نے ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے تنخواہوں میں کٹوتی کے فیصلہ کو دی گئی قانونی شکل سے واقف کروایا ۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے آرڈیننس کو گزٹ میں شائع کرتے ہوئے اس کی اجرائی عمل میں لائی گئی اور آئندہ اسمبلی و قانون ساز کونسل کے اجلاس میں اس آرڈیننس کو منظورکروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آرڈیننس کے مطابق ریاستی حکومت کو تمام سرکاری ملازمین کی نصف تنخواہوں کی کٹوتی کا کامل اختیار دیا گیا ہے اور ان کی تنخواہوں کو مؤخر کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کا اطلاق تمام جامعات‘ سرکاری اسکولوں ‘ کالجس میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ و ملازمین ‘ سرکاری محکمہ جات‘ ادارۂ جات‘ کارپوریشنوں‘ ّسرکاری و قانونی اداروں کے علاوہ امدادی اداروں پر بھی ہوگا۔ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس آرڈیننس میں حکومت کو مزید ترامیم کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت یہ آرڈیننس جاری کیا ہے جس میں حکومت کو تنخواہوں میں50فیصد تک کٹوتی کا اختیار دیا گیا ہے۔اساتذہ اور ملازمین کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ تنخواہوں کی کٹوتی کو غیر جمہوری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے آرڈیننس سے دستبرداری اختیار نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔