کمیشن سے 29 ڈسمبر کو رپورٹ کی پیشکشی ممکن ۔ چیف منسٹر 30 ڈسمبر کو ملازمین تنظیموں کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں
حیدرآباد : حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین اور ٹیچرس کی جانب سے تنخواہوں پر نظرثانی کرنے کا قوی امکان ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر کے سی آر 30 ڈسمبر کو سرکاری ملازمین تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ پی آر سی کمیشن کی جانب سے 28 یا 29 ڈسمبر کو اپنی رپورٹ چیف منسٹر کو پیش کرنے کی توقع ہے۔ ملازمین تنظیموں میں یہ بات گشت کررہی ہیکہ چیف منسٹر سنکرانتی کے تحفہ کے طور پر نئے فیٹمنٹ کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ملازمین اور ٹیچرس اپنی تنخواہوں میں اضافہ کا لمبے عرصہ سے انتظار کررہے ہیں۔ یکم ؍ جولائی 2013ء سے عمل ہونے والے 10 ویں پی آر سی تنخواہوں کو حکومت نے جون 2014ء سے عمل کیا ہے۔ تلنگانہ ر یاست کی تشکیل پر چیف منسٹر کے سی آر نے سرکاری ملازمین اور ٹیچرس کیلئے 43 فیصد فیٹمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس کی میعاد 30 جون 2018ء کو مکمل ہوگئی۔ یکم ؍ جولائی سے نئی تنخواہوں پر عمل آوری ہونا تھا جس پر حکومت نے مئی 2018ء میں ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل پی آر سی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ سی آر بسوال، محمد علی رفعت، مدھوسدن راو پر 11 ویں پی آر سی تشکیل دی تھی۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ کمیشن کی جانب سے رپورٹ وصول ہوتے ہی اگست 2018ء سے نئی تنخواہوں پر عمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یکم ؍ جولائی 2018ء سے عمل ہونے والی نئی تنخواہوں پر ابھی تک عمل آوری نہیں ہوئی ہے جس سے سرکاری ملازمین کی تنظیموں اور ملازمین میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ پی آر سی کمیشن نے سرکاری ملازمین، ٹیچرس اور چوتھے درجہ کے ملازمین تنظیموں درخواستیں وصول کی ہیں جس کے بعد رپورٹ بھی تیار کرلینے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم حکومت نے کمیشن کو تنخواہوں کے ساتھ سرویس رول کے علاوہ دیگر امور کی بھی ذمہ داری سونپی ہے جس کا جائزہ لینے کیلئے کمیشن کو 31 ڈسمبر میعاد میں توسیع دی ہے جس کیلئے صرف 5 دن باقی رہ گئے ہیں۔ ایک وزیر نے بتایا کہ اس مہلت میں مزید توسیع دینے کا امکان نہیں ہے۔ چیف منسٹر مہلت میں توسیع کے حق میں نہیں ہے۔ ملازمین کی ناراضگی اور مایوسی کا حکومت کو احساس ہے۔ لہٰذا چیف منسٹر کی جانب سے تنخواہوں پر نظرثانی کرنے کے مقصد سے فٹمنٹ کا اعلان کرنے کا بھی امکان ہے ۔