این جی اوز کے رشتہ داروں کو ملازمت میں توسیع، 2008ء سے پی آر سی اور عبوری راحت کی عدم ادائیگی
حیدرآباد۔ 5 جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر ملازمین کے قائدین کو خوش کرتے ہوئے ملازمین اور اساتذہ کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے آئی سی سی سکریٹری ومشی چند ریڈی نے بتایا کہ گزیٹیڈ آفیسر اسوسی ایشن اور تلنگانہ این جی اوز اسوسی ایشن کے بعض قائدین کے رشتہ داروں کو سرکاری خدمات میں توسیع کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل سے سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا جبکہ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا تھا۔ این جی اوز کے قائدین کو حکومت میں عہدے حاصل ہوچکے ہیں۔ سوامی گوڑ کو قانون ساز کونسل کا صدرنشین مقرر کیا گیا جبکہ گزیٹیڈ آفیسرس کے صدر سرینواس گوڑ کو وزارت میں شامل کیا گیا۔ دیوی پرساد کو کارپوریشن کا صدرنشین بنایا گیا لیکن ملازمین کے جائز حقوق گزشتہ چھ برسوں میں ادا نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے وظیفے کی حد عمر 58 سے بڑھاکر 60 کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ 2018ء سے پی آر سی، انٹرم ریلیف اور تین مہنگائی بھتے واجب الادا ہیں لیکن حکومت یونین کے قائدین کو خوش کرتے ہوئے ملازمین کے مسائل پس پشت ڈال رہی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کردی گئی ہے اور پی آر سی کے اعلان کا کوئی فوری امکان نظر نہیں آتا۔ کانگریس دور حکومت میں تین مرتبہ پی آر سی کا اعلان کیا گیا۔ کرن کمار ریڈی نے 43 فیصد پی آر سی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ 500 تا 700 ملازمین سبکدوش ہورہے ہیں لیکن حکومت مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات سے گریز کررہی ہے۔ ومشی چند ریڈی نے پی آر سی انٹرم ریلیف اور مہنگائی بھتے کی فوری اجرائی کا مطالبہ کیا۔