سرکاری یونیورسٹیز کے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کا احتجاج جاری

   

خدمات کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ، چلو عثمانیہ یونیورسٹی احتجاجی پروگرام
حیدرآباد : 23 اپریل (سیاست نیوز) ریاست بھر میں سرکاری یونیورسٹیز کے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس نے احتجاج میں شدت پیدا کردی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے سرکاری یونیورسٹیز میں کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ کئی برسوں سے یونیورسٹیز میں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کے ساتھ ناانصافی کا اندیشہ ہے۔ تلنگانہ کی تمام سرکاری یونیورسٹیز میں کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج جاری ہے جس میں حکومت کے احکامات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا گیا۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں آج تیسرے دن بھی ہڑتال جاری رہی۔ کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر مسلسل تیسرے دن دھرنا منظم کیا گیا۔ امبیڈکر مجسمہ کے قریب احتجاجی ملازمین نے دھرنا کیا۔ یونیورسٹی کے ریگولر اسسٹنٹ پروفیسرس اور دیگر ٹیچنگ اسٹاف نے اظہار یگانگت کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں تمام سرکاری یونیورسٹیز کے ملازمین نے احتجاج منظم کیا اور چلو عثمانیہ یونیورسٹی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس نے شرکت کی۔ اوپن یونیورسٹی کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کے اویناش، جنرل سکریٹری ڈاکٹر ایم کشور نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کئے جانے تک احتجاج جاری رہے گا۔ اسوسی ایشن کے دیگر قائدین نے بھی دھرنے میں شرکت کی اور کہا کہ طویل عرصہ سے خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ اسسٹنٹ پروفیسرس کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے۔ 1