سری لنکا میں اقتدار پر قابض خاندان مشکل میں

   

کولمبو: سری لنکا کا طاقتور سیاسی خاندان شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ عوامی مظاہروں کا سلسلہ نہیں رک رہا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صدر اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔2020ء میں مہندا راجا پاکسے سری لنکا کے صدر اور اپنے بھائی گوٹا بایا راجا پاکسے کی حکومت میں وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ 2021ء میں ان ہی کے ایک بھائی باسیل کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا اور اس طاقتور خاندان کی گرفت سری لنکا پر مزید مضبوط ہو گئی۔لیکن اب یہ طاقتور خاندان شدید سیاسی مشکلات کا شکار ہے۔ ملک کے اقتصادی بحران نے ہزاروں شہریوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس جزیرہ نما ریاست کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ صدر گوٹابایا راجا پاکسے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ایک سو سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ اس ملک میں لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا مہنگائی، ایندھن کی کمی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے شدید مسائل کا عکاس ہے۔