اسلام آباد : تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور میں گرفتار کر لیا۔ تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کارکنوں نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت فیصل آباد، خانیوال، ملتان، گجرات، گوجرانوالہ، لیہ، پاکپتن، اور بہاولپور سمیت دیگر کئی شہروں مختلف سڑکیں بلاک کر دی ہیں جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔سعد رضوی کو ان کی رہائش گاہ کے قریب ہی مقامی تاجر قائد رانا اختر کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد واپسی پر گرفتار کیا گیا۔ رانا اختر گذشتہ روز کورونا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔ تحریک لبیک کے رہنما خالد اعوان نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کر دی۔ سعد رضوی جیسے ہی نماز جنازہ پڑھا کر فارغ ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔یاد رہے کہ تحریک لبیک نے حکومت کو فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے 20 اپریل تک کا وقت دیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک گیر مظاہروں اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے ممکنہ مظاہروں کو مدنظر رکھتے ہوئے امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سعید رضوی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تحریک لبیک کے رہنما نے کہا کہ کہ حکومت 20 اپریل کو فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے وعدے سے مکر گئی ہے اور سعد رضوی کو گرفتار کر لیا ہے۔ خالد اعوان نے کہا کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے باوجود وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔خیال رہے کہ 2020 میں فرانس میں سرکاری سطح پر پیغمبر اسلام ؐکے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔اس معاہدے کے 2 روز بعد 19 نومبر 2020 کو ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی انتقال کر گئے تھے۔
نومبر میں ہوئے اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق 3 ماہ میں پارلیمنٹ سے فیصلہ لے گی۔ فرانس میں اپنا سفیر مقرر نہیں کرے گی اور ٹی ایل پی کے تمام گرفتار کارکنان کو رہا کرے گی، مزید یہ کہ حکومت دھرنا ہونے کے بعد ٹی ایل پی قائدین یا کارکنان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کرے گی۔اگرچہ آخری 2 مطالبات فوری طور پر مان لیے گئے تھے لیکن پہلا مطالبہ زیر التوا تھا۔بعد ازاں ٹی ایل پی نے جنوری میں خبردار کیا تھا کہ حکومت نے اگر 17 فروری تک توہین رسالتؐ کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو وہ اپنا احتجاج دوبارہ شروع کرے گی۔