امام مسجد نبوی شیخ عبدالباری الترابی نے نماز جنازہ پڑھائی‘ وزیر اقلیتی بہبود محمداظہر الدین اور ہندوستانی سفا رت خانہ حکام شریک ۔ جذباتی مناظر
(مدینہ منورہ سے محمد ریاض احمد کی رپورٹ)
حیدرآباد 22 نومبر : مدینہ منورہ کے قریب 16 نومبر کو پیش ائے ایک سڑک حادثے میں جان بحق 45 حیدرابادی مرد و خواتین جوانو ں اور بچوں کی نماز جنازہ اج یعنی 22 نمبر کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں امام مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شیخ عبدالباری الترابی نے پڑھائی اس موقع پر ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین ہندوستانی سفارت خانے کے اعلی عہدیدار، ماجد حسین ایم ایل اے، سعودی عرب میں مقیم تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کے ساتھ ساتھ پڑوسی ریاستوں کرناٹک، ٹاملناڈو، مہاراشٹرا اور دیگر علاقوں و کئی ممالک کے معتمرین نے شرکت کی۔ سعودی شہریوں کی کثیر تعداد بھی اس پر موقع پر موجود تھی۔ لوگوں نے غمزدہ ارکان خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں صبر جمیل کی تلقین کی۔ نماز ظہر سے قبل ہی شہداء کی میتوں کو مسجد نبویؐ منتقل کیا گیا۔ واضح رہے کہ شہداء کے کم از کم 36 ارکان خاندان کو بطور خاص سعودی عرب روانہ کیا گیا تھا۔ جنت البقیع میں جس وقت ان شہداء کی تدفین عمل میں لائی جا رہی تھی اُس وقت وہاں جذباتی مناظر دیکھے گئے، لوگ زار و قطار رو رہے تھے اور انہیں دلاسہ دینے والوں کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے۔ جہاں تک جنت البقیع کا سوال ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جنت البقیع جاتے اور بقیع والوں پر سلام بھیجتے اور مغفرت کی دعا فرماتے۔ جنت البقع کے بے شمار فضائل ہیں چنانچہ روایت میں آیا ہے کہ جو مدینہ میں فوت ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس خوش نصیب کی شفاعت فرمائیں گے۔ واضح رہے کہ مدینہ طیبہ سے 25 کلومیٹر یہ حادثہ 16 نومبر کو پیش آیا تھا جس نے نہ صرف حیدرآباد بلکہ سعودی عرب میں مقیم حیدرآبادیوں اور تلنگانہ کے عوام میں میں غم کی لہر دوڑا دی تھی۔ ایک ہی خاندان کے 18 افراد بھی شہید ہوئے تھے اور اس خاندان سے تعلق رکھنے والے سراج بھی جو امریکہ سے آئے تھے تدفین میں موجود تھے۔ تدفین سے قبل کئی مرتبہ یہ کہا گیا تھا کہ بعد نماز جمعہ ان شہداء کی تدفین عمل میں آئے گی لیکن کئی ایک دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے ایسے میں ڈی این اے ٹسٹ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ان تمام شہداء کے ڈی این اے ٹسٹ کے بعد ان کی تدفین عمل میں آئی۔ ہندوستانی سفارت خانہ کے ایک عہدیدار نے سیاست کو بتایا کہ اب ان شہداء کے ڈیتھ سرٹیفکٹ سفارت خانہ کی جانب سے جاری کئے جائیں گے پھر حکومت سعودی کی جانب سے بھی ڈیتھ سرٹیفکٹ کی اجرائی عمل میں آئے گی۔ سڑک حادثہ میں واحد بچ جانے والے شعیب کے بھائی سمیر بھی تدفین کے موقع پر موجود تھے۔ شعیب کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ تدفین کے موقع پر اظہر الدین کے فرزند بھی موجود تھے۔