واشنگٹن ۔ /11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے کے بعد پنٹگان نے ایرفورس F-15 ، نیو ایر ڈیفنس سسٹم اور دیگر جنگی ساز وسامان کے ساتھ ہزاروں امریکی سپاہیوں کو سعودی عرب روانہ کیا ہے ۔ پینٹگان نے آج صبح سعودی عرب میں دفاعی انتظامات احتیاطی طور پر کئے جانے کا اعلان کیا ۔ تیل تنصیبات پر گزشتہ ماہ حملے کے بعد سے امریکہ نے 3000 سپاہیوں کو تعینات کیا ہے ۔ آج ہی سعودی ساحل کے قریب ایرانی آئیل ٹینکر پر راکٹ سے حملے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد خطہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ ایران کے اختیار کردہ موقف کے پیش نظر امریکہ نے سعودی عرب پر ہونے والے امکانی حملوں کے پیش نظر اپنی اضافی فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے بھی اضافی فورس روانہ کرنے کی درخواست کی ہے ۔
سعودی ساحل کے قریب ایرانی آئیل ٹینکر پر راکٹوں سے حملہ
سعودی عرب کا ردعمل سے گریز ، کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ
تہران ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایرانی حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساحل سے بحرہ احمر کے ذریعے سفر کرنے والے ایرانی تیل بردار جہاز پر 2 راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔تاہم اس حملے سے متعلق سعودی عرب کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی سعودی حکام نے رابطہ کرنے پر فوری کوئی ردعمل دیا۔امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ کی بندرگاہ کے قریب آئل ٹینکر میں دھماکے سے 2 اسٹور رومز کو نقصان پہنچا اور جہاز سے بحیرہ احمر میں تیل کا رساؤ شروع ہوگیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ایران کے ’قومی ایرانین ٹینکر کو‘ کے بیان کو نقل کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ جہاز کی شناخت سیبیٹی کے نام سے ہوئی، اس جہاز نے آخری مرتبہ اگست میں ایرانی ساحلی شہر بندر عباس کے قریب ٹریکنگ ڈیوائسز کو آن کیا تھا۔اس حوالے سے مشرق وسطیٰ کو دیکھنے والے امریکی نیوی کے 5 ویں بیڑے کے ترجمان لیفٹیننٹ پیٹی پاگانو نے کہا کہ وہاں موجود انتظامیہ ‘اس واقعے کی رپورٹس سے متعلق باخبر ہیں’ لیکن انہوں نے اس پر مزید تبصرے سے انکار کردیا۔ خیال رہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز پر حملے کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران کے سعودی عرب اور امریکہ سے تعلقات کشیدہ ہیں اور خلیج کی ان دونوں ریاستوں کے کشیدہ تعلقات کے خاتمے میں پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان 12 اکتوبر کو ایران اور سعودی عرب کا دورہ بھی کریں گے۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ حملے کی رپورٹس امریکہ کے اس الزام کے بعد آئیں جس میں اس نے کہا تھا کہ گزشتہ مہینوں میں خلیج فارس میں ابنائے ہرمز کے قریب ایران نے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا لیکن تہران نے ان الزامات کو مسترد کردیا گیا تھا۔جمعہ کو پیش آنے والا یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایک سال سے زائد عرصے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کو الگ کرلیا تھا اور ایرانی کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے پابندیاں لگا دی تھیں۔امریکی صدر کے فیصلے کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب تیل ٹینکرز پر پراسرار حملے، ایران کی جانب سے امریکی فوج کا نگرانی کرنے والا ڈرون گرانے اور دیگر واقعات مشرق وسطیٰ میں رونما ہوئے۔خیال رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی ابقیق اور خریس کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے تھے۔ان حملوں کی وجہ سے ریاض کی تیل کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی تھی جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا تھا۔اگرچہ یمن کے حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن ریاض، واشنگٹن اور کئی یورپی حکومتیں کہتی ہیں کہ ان حملوں کا ذمہ دار ایران تھا۔تاہم تہران کی جانب سے ان ڈرون حملوں میں اپنے کردار کو مسترد کردیا گیا تھا۔
