سعودی عرب کو ویژن 2030 کیوں بدلنا پڑا؟

   

ریاض ۔ 14 فروری (ایجنسیز) سعودی حکومت نے اپنے اقتصادی اور سماجی اصلاحاتی ایجنڈہ میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ اب توجہ تعمیراتی کاموں اور گِگا پراجیکٹس کے بجائے ٹیکنالوجی اور مذہبی سیاحت پر مرکوز ہو گی۔ ایسے میں انسانی حقوق کی صورتحال کیا ہے؟ سعودی عرب نے اپنے ویژن 2030 کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ 2016 میں شروع کیا گیا یہ ایک وسیع اصلاحاتی منصوبہ تھا، جس کا مقصد معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانا اور معاشرتی تبدیلی لانا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ویژن 2030 نامی اس منصوبے کے روح رواں ہیں، جب انہوں نے اس پراجیکٹ کا اعلان کیا تھا تو اس وقت وہ نائب ولی عہد اور وزیر دفاع تھے۔ اس پراجیکٹ کی لاگت 2 ٹریلین ڈالر سمجھی جاتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں اپنی معیشت کو ٹیکنالوجی، سیاحت اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقل کرنا شروع کیا تھا۔ دیگر اہم شعبوں میں بڑے تعمیراتی گِگا پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ کے کردار میں اضافہ اور سماجی اصلاحات بھی اس کا حصہ بنائے گئے۔ ان پراجیکٹس کے تحت خواتین کے حقوق اور ان کی ورک فورس میں شمولیت کو بڑھانا ایک اہم مقصد بتایا گیا تھا۔ تاہم وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان نے اسی ہفتے اعلان کیا کہ حکومت اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہے۔ پیر کے روز بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ حکومت ایک نئی پانچ سالہ منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد سیاحت، صنعت، لاجسٹکس اور توانائی پر ’’دوگنا زور‘‘ دینا ہے۔ اس نظر ثانی کا مطلب یہ ہو گا کہ کچھ منصوبے کم کیے جائیں گے، کچھ بڑھائے جائیں گے اور کچھ روک دیے جائیں گے۔