سعودیہ سمیت 8مسلم ملکوں کا ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا فیصلہ

,

   

ریاض:22جنوری ( کے این واصف ) غزہ کے جامع امن منصوبہ میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے تشکیل کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی ’’ایس پی اے‘‘ کے مطابق وزرائے خارجہ نے چہارشنبہ کو ایک مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ کی سربراہی میں امن کوششوں اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے مشن کی سپورٹ کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا اعلان غزہ کے جامع امن منصوبہ میں کیا گیا ہے۔ اس مشن کا مقصد مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو کی سپورٹ، بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد ریاست پر مبنی منصفانہ اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے کے تمام ملکوں اور عوام کے لیے سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار کی جاسکے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہر ملک اپنے متعلقہ قانونی اور دیگر ضروری طریقہ کار کے مطابق شمولیت کی دستاویز پر دستخط کرے گا۔ مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرچکے ہیں۔ واضح رہے امریکہ نے ’’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا جو ایک وسیع تر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے تحت کام کرے گا۔ یہ بورڈ امریکی صدر ٹرمپ کی زیرِصدارت قائم کیا جانا ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمہ کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی حیثیت حاصل ہوگی جس میں ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاکان فدان اور قطری سفارت کار علی الثوادی سمیت مختلف علاقائی اور بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔ روئٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 60 ممالک کو بھیجے گئے ایک مسودہ چارٹر کے مطابق نئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی رکنیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے خواہاں ممالک کو ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا ہوں گے۔غزہ سے متعلق ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی رکنیت کیلئے بھاری رقم کی شرط عائد کرنے پر سب کو حیرت ہے ۔