سعودیہ میں کورونا بحران سے 93 فیصد تارکین وطن کی ملازمتوںکو خطرہ

   

ریاض۔ 5 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب لاکھوںتارکین وطن مقیم ہیں، جن کی زیادہ تر گنتی نجی شعبے سے وابستہ ہے۔سعودی عرب کے ایک نامور سرکاری تحقیقی ادارے کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث لاکھوں غیر ملکی بے روزگار ہو جائیں گے اور مقامی افراد کی بھی نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔کنگ عبداللہ پٹرولیم ریسرچ اینڈ سٹڈیز سینٹر (کاپسارک)نے سعودی لیبر مارکیٹ پر کورونا وائرس کے اثرات پر مشتمل جاری رپورٹ میں بتایا ہے کہ 24 شعبوں کے ملازمین ورونا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران سے متاثر ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق 24 شعبوں میں 39 فیصد سعودی شہری اپنی ملازمتوں سے محروم ہوسکتے ہیں جبکہ مذکورہ شعبوں میں متاثر غیرملکیوں کی تعداد 93 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ان 24 شعبوں میں 90 لاکھ سے زیادہ غیرملکی جبکہ سعودی ملازمین کی تعداد دس لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بحران کے باعث صنعت،ٹرانسپورٹ، تعمیرات، ہوٹلنگ، تھوک، ریٹیل، تفریحات اور فنون لطیفہ کے شعبوں کے لاکھوں ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔البتہ ہسپتالوں، ہیلتھ سینٹرز، فارمیسیوں اور صحت سے تعلق رکھنے والے اداروں کے کارکنان میں بیروزگاری کے خطرات سب سے کم ہیں۔