پوسٹرس چسپاں کرنے اور نکالنے کی ہدایت سے ملازمین میں الجھن
حیدرآباد : /15 ستمبر (سیاست نیوز) سعیدآباد کے عصمت ریزی وقتل کیس کی تحقیقات میں ہنوز کوئی پیشرفت نہیں ہے اور اس کیس کا ملزم پی راجو ہنوز پولیس کے شکنجہ سے باہر ہے ۔ حالانکہ حیدرآباد پولیس کی جانب سے ملزم کی اطلاع دینے والے افراد کو 10 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا اور آج صبح سے ہی پولیس عہدیدار ملزم راجو کے خلاف جاری کئے گئے لوک آؤٹ نوٹس پوسٹرس کو عوامی مقامات بشمول آر ٹی سی بسیس ، آٹوز ، وائن شاپس ، بس اسٹانڈس اور دیگر مقامات پر چسپاں کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ اتنا ہی نہیں چہارشنبہ کو ریاستی وزیر داخلہ جناب محمود علی کی جانب سے اس سلسلہ میں جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا اورملزم کے خلاف جاری کئے گئے پوسٹرس ، تصاویر ، ویڈیوز وغیرہ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت دی گئی تاکہ اس کا پتہ فوری طور پر لگایا جاسکے ۔ لیکن اس کے برعکس آج شام سٹی پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے پولیس اسٹیشن کے عملہ کو یہ ہدایت جاری کی گئی کہ مفرور ملزم کے خلاف لگائے گئے پوسٹرس کو فوری طور پر ہٹادیا جائے ۔ ان ہنگامی احکامات کے پیش نظر ٹریفک اور لا اینڈ آرڈر پولیس نے جن مقامات پر پوسٹرس چسپاں کئے تھے اسے فوری طور پر نکالنے میں مصروف دیکھے گئے ۔ اچانک ملزم کے خلاف جاری کئے گئے تشہیری مواد کو عوامی مقامات سے ہٹالینے کی ہدایت پر پولیس عہدیدار الجھن کا شکار ہوگئے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ بعض پولیس عہدیداروں کویہ شبہ ہے کہ بڑے پیمانے پر تشہیر سے مفرور ملزم روپوش ہوسکتا ہے اور اتنا ہی نہیں اپوزیشن جماعتیں اس تشہیری مواد کو پولیس کی ناکامی کے طور پر عوام میں پیش کرسکتے ہیں ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ملزم راجو کی تلاش کیلئے اب تک کئی ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیجیس کا تجزیہ کیا جاچکا ہے اور صرف یہ سراغ حاصل ہوا ہے کہ وہ علاقہ اوپل میں آخری مرتبہ دیکھا گیا جبکہ فرار ہونے سے قبل پرانے شہر کے علاقہ مادنا پیٹ میں ایک مکان سے اپنی مزدوری حاصل کرنے کے بعد اس نے راہ فرار اختیار کرلی ۔ واضح رہے کہ راجو پیشہ سے مزدور ہے ۔B