نیویارک ۔ 12 ستمبر (ایجنسیز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر کے دار الحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے کی مذمت کی ہے جس میں منگل کو حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ قطر ایک اہم ثالث ہے، اس لیے دوحہ پر حملہ نہ صرف تشویش ناک بلکہ اس کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی سیاسی امور کی انڈر سیکریٹری جنرل روز ماری ڈی کارلو نے واقعہ پر شدید صدمہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ خطرناک جارحیت اور قطر کی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی تباہ کن جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور مغربی کنارے میں بھی حالات بگڑ رہے ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات جو ثالثی اور مذاکرات کو نقصان پہنچائیں، امن عمل پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں۔ الجزائر کے مندوب عمار بن جامع نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے قوانین کو نظرانداز کر رہا ہے اور نتین یاہو کی حکومت پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ روسی مندوب واسیلی نبی نزا نے بھی اس حملے کو قطر کی خود مختاری پر کھلا حملہ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل اس وقت مذاکرات کار پر ہی بندوق تانے کھڑا ہے۔ امریکی خاتون مندوب ڈوروتھی شیا نے بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو یقین دلایا ہے کہ ایسا حملہ دوبارہ نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے لیکن ٹرمپ اسے امن کا موقع بھی سمجھتے ہیں۔ شیا نے کہا کہ حماس کو ختم کرنا ضروری ہے اور سلامتی کونسل کو اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے، نہ کہ اسے کسی طرح کی سیاسی حیثیت دی جائے۔