ممبئی 31 جنوری (ایجنسیز) بالی ووڈ کے بھائی جان سلمان خان کافی عرصے سے خبروں میں ہیں۔ وجہ ان کی کوئی فلم نہیں بلکہ ’دبنگ‘ کے ہدایت کار ابھینو کشیپ ہیں جنہوں نے سلمان خان پرکئی سنگین الزامات لگائے۔ اس کے بعد سلمان نے کشیپ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا، اس طرح کے تبصروں پر پابندی لگانے اور 9 کروڑ کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ اب اس معاملے میں سلمان خان کو اہم راحت ملی ہے۔ ممبئی کی ایک عدالت نے کشیپ کو اداکار اور ان کے خاندان کے خلاف “ہتک آمیز” مواد پوسٹ کرنے یا شیئرکرنے سے عارضی طور پر روک دیا۔ عدالت نے واضح طور پرکہا کہ اظہار رائے کی آزادی کسی کو دوسروں کے خلاف گالی گلوچ یا دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے کا حق نہیں دیتی۔ کیشپ نے نہ صرف سلمان خان کے بارے میں بیانات دیئے بلکہ ان کے بھائی ارباز خان اور خاندان کے دیگر افراد کے خلاف بھی کئی تبصرے کئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سلمان خان نے اپنے بھائی ارباز خان کا کردار فلم سے کاٹ دیا ہے۔ اس نے کئی اور چونکا دینے والے انکشافات بھی کئے۔سلمان خان نے بھی ابھینوکشیپ کے الزامات پر ردعمل کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے بگ باس کے حالیہ ایپی سوڈ میں اس معاملے پرکھل کر بات کی۔ انہوں نے سکندر کے ڈائریکٹر مروگاداس کے تبصروں کا بھی جواب دیا۔ ۔ دریں اثنا سلمان خان کی جانب سے دائر ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جج پی جی بھوسلے نے کشیپ کے خلاف ایک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کارکو سلمان خان کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے سے روک دیا۔ مقدمہ میں یوٹیوب چینلزاور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دیگر مواد تخلیق کرنے والوں کا بھی ذکر ہے۔ سول سوٹ میں سلمان خان نے دعویٰ کیا کہ ابھینو کشیپ نے ان کے خلاف کئی ہتک آمیز بیانات اور ان کے خاندان کے بارے میں جھوٹے دعوے کیے، جس سے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ دیانت اور ذاتی کردار پر سوالیہ نشان لگا بلکہ ان کے خاندان کے افراد کو بھی نشانہ بنایاگیا۔ اس کی روشنی میں عدالت نے ابھینوکشیپ اور دیگرکو اداکار کے خلاف کوئی ہتک آمیز مواد شائع کرنے سے روک دیا ہے۔