لکھن۔5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں 2022 کے اسمبلی انتخابات میں متبادل پارٹی کے طور پر ابھرنے اور ریاست میں اگلی حکومت بنانے کے لئے قطار میں منتظر سماج وادی پارٹی(ایس پی) پورے منصوبہ بند طریقے سے محتاط طور پر اپنے آپ کو اقلیتی ووٹروں کیلئے سب سے موزوں قرار دینے کی کوشش کررہی ہے ۔سماج وادی پارٹی(ایس پی)اعلی قیادت کو اس بات کی خاص توقع ہے کہ اترپردیش کے 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بھی دہلی کی حکمت عملی کو دہرایا جائے گا جہاں پر کانگریس نے بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کیلئے اپنی انتخابی مفاد کی قربانی پیش کرتے ہوئے انتخابی تشہیر میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی تھی ۔تاہم اترپردیش میں کانگریس خاص کر جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی جارحانہ انداز سے ایس پی کے توقعات کو کافی زک پہنچی ہے ۔سماج وادی پارٹی(ایس پی) کی مجلس عاملہ کی میٹنگ 14 مار چ کو لکھنؤ میں ہونی ہے جس میں سب سے اہم ایجنڈا 2022 کے اسمبلی انتخابات ہوں گے ۔دہلی میں ہوئے فسادات اور دیگر واقعات بھی ایس پی کے سیاسی حکومت عملی کا حصہ ہوں گے ۔سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے ذرائع نے بتایا کہ شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف یوپی،دہلی سمیت ملک کے دیگر مقامات پر گذشتہ 3 مہینوں سے احتجاج جاری ہیں۔باجود اس کے عوام کا حقیقی موقف خاص طور سے مسلم سماج کا جواب ابھی کھل کر سامنے آنا باقی ہے اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر(این پی آر) کا یکم اپریل سے آغاز ہونا ہے ۔سماج وادی سربراہ اکھلیش یادو نے پہلے ہی اس ضمن میں انتہائی موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پارٹی کا کوئی بھی کارکن این پی آر کا فارم نہیں بھرے گا۔لیکن ایس پی میں کچھ افراد نے پارٹی سربراہ کو 2022 کی حکمت عملی تیار کرنے کے ضمن میں محتاط کیا ہے ۔
