سماجی کارکن سید سلیم کی ضمانت منظور، چنچل گوڑہ جیل سے آج رہائی

   

حیدرآباد: نامپلی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے آج پرانے شہر کے معروف سماجی کارکن سید سلیم کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کے خلاف فیس بک پر بیان دینے پر سائبر کرائم پولیس نے ان کے خلاف اشتعال انگیزی کا ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا ۔ سید سلیم جنہیں گزشتہ ہفتہ ایک خاتون کے خلاف بیان دینے کے کیس میں چندرائن گٹہ پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا کہ اس کیس میں ضمانت منظور ہونے کے فوری بعد ہی سائبر کرائم پولیس نے پی ٹی وارنٹ کے ذریعہ انہیں ریمانڈ میں لے لیا تھا۔ سائبر کرائم پولیس نے از خود کارروائی کرتے ہوئے سید سلیم پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے فیس بک کے پیج پر نریندر مودی اور یوگی ادتیہ ناتھ کے خلاف بیان جاری کیا ہے جو اشتعال انگیز نوعیت کا ہے اور اس بیان سے ہندو مذہب کے افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے ۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 153 A کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد سائبر کرائم پولیس نے سماجی کارکن کو اس کیس میں گرفتار کیا تھا جس کے نتیجہ میں ان کی رہائی میں تاخیر ہوئی ۔ شہر کے مشہور وکیل جناب محمد مظفر اللہ خان ایڈوکیٹ نے سید سلیم کی پیروی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے استدلال پیش کیا کہ دفعہ 153-A ملزم پر اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب دونوں فرقوں کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن سید سلیم کا بیان وزیراعظم اور ایک چیف منسٹر کے خلاف ہے اور جمہوریت میں اس قسم کے بیانات کو فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں سمجھا جاتا ۔ اس بحث سے مطمئن ہوکر نامپلی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے سید سلیم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا اور 10,000 ہزار کی دو ضمانتیں جمع کرنے کی ہدایت دی ۔ سماجی کارکن کی رہائی کل چنچل گوڑہ سے عمل میں آئے گی۔