سنبھل تشدد پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، کارروائی ملتوی

,

   

نئی دہلی: اتر پردیش کے سنبھل میں تشدد کے معاملے پر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے آج لوک سبھا کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن اراکین نے دہلی میں امن و امان کی صورتحال، اتر پردیش کے سنبھل اور منی پور میں تشدد اور اڈانی کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے آج زبردست شوروغل کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی گئی اور وقفہ صفر میں خلل پڑا۔ لوک سبھا میں آج دوپہر 12بجے جیسے ہی دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی ، سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اراکین اور دیگر اپوزیشن اراکین نے سنبھل میں تشدد کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج شروع کردیا۔ ایس پی کے اراکین شور مچاتے ہوئے ایوان کے بیچ میں آگئے اور سنبھل کے قاتلوں کو پھانسی پر لٹکا دو جیسے نعرے لگانے لگے ۔ اس دوران کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردپوار) اور ترنمول کانگریس کے اراکین بھی اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر ایس پی اراکین کے نعروں کی حمایت کررہے تھے ۔اس دوران پریذائیڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے ضروری دستاویزات ایوان میں پیش کیں۔سائکیا نے شور مچانے والے اپوزیشن اراکین سے بار بار درخواست کی کہ وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں اور ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلنے دیں لیکن اپوزیشن اراکین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ صدر نشیں نے کہا کہ تمام اراکین کو اظہار خیال کا موقع دیا جائے گا، وہ اپنی اپنی نشستوں پر جائیں اور ایوان کی کارروائی چلنے دیں۔ ایوان کا وقت بہت قیمتی ہے اور پورا ملک اسے دیکھ رہا ہے ۔ ہنگامہ جاری رہنے پر سائکیا نے ایوان کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردی۔ راجیہ سبھا میں صبح 11.30 بجے پہلے التوا کے بعد چیئرمین جگدیپ دھنکڑنے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کی تو اپوزیشن اراکین نے شور مچانا شروع کر دیا۔ دھنکڑ نے اراکین سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش اسلوبی سے ایوان کی کارروائی کوچلانے میں تعاون کریں۔اس دوران جب کانگریس کے جے رام رمیش اور پرمود تیواری نے بولنے کی کوشش کی تو چیئرمین نے ہدایت دی کہ وہ کچھ بھی ریکارڈ پر نہ لیں۔