لکھنؤ ۔ 21 جنوری (ایجنسیز) اترپردیش کی الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک انتظامی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے 14 ججوں کے تبادلے کیے، جن میں سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر بھی شامل ہیں۔ انہیں سنبھل سے تبادلہ کر کے سلطان پور میں سِول جج (سینئر ڈیویژن) مقرر کیا گیا ہے۔ یہ احکامات الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے۔یہ تبادلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہی روز قبل سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے نومبر 2024 کے سنبھل تشدد معاملے میں پولیس کو کئی عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان میں سابق سرکل آفیسر انوج چودھری، سنبھل پولیس اسٹیشن کے انچارج انوج کمار تومر اور 15 سے 20 نامعلوم پولیس ملازمین شامل تھے۔ الزامات کے مطابق پولیس ملازمین نے جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں عالم نامی ایک مقامی نوجوان شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس سلسلہ میں زخمی نوجوان کے والد یامین کی جانب سے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 173(4) کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی، جسے سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے منظور کر لیا تھا۔درخواست میں کہا گیا کہ 24 نومبر 2024 کو صبح تقریباً 8:45 بجے یامین کا بیٹا سنبھل کے محلہ کوٹ میں واقع جامع مسجد سنبھل کے قریب اپنے ٹھیلے پر چائے اور بسکٹ فروخت کر رہا تھا، اسی دوران نامزد پولیس ملازمین نے ہجوم پر اچانک فائرنگ شروع کر دی۔عدالت نے پولیس رپورٹ اور طبی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد مشاہدہ کیا کہ اگرچہ یہ واضح ہے کہ متاثرہ نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم فائرنگ کرنے والے کی شناخت تفتیش کا موضوع ہے۔ عدالت نے کہا کہ واقعے کی اصل حقیقت صرف متاثرہ شخص ہی بیان کر سکتا ہے اور چونکہ اقدام قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے، اس لیے یہ بعید ہے کہ متاثرہ شخص اصل مجرم کو بچا کر کسی اور کو جھوٹا نامزد کرے۔اپنے 11 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے یہ بھی واضح کیا کہ پولیس مجرمانہ افعال کے لئے ‘‘سرکاری فرائض’’ کی آڑ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص پر فائرنگ کو سرکاری ڈیوٹی کی انجام دہی نہیں کہا جا سکتا۔عدالت نے پولیس کی ابتدائی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے پولیس رپورٹ کو مشتبہ قرار دیا۔ اور کہا کہ وہ طبی شواہد سے متصادم ہے، جن میں واضح طور پر ’’گولی لگنے کا زخم‘‘ اور ’’فساد کے دوران پولیس فائرنگ‘‘ درج ہے۔ عدالت نے نتیجہ اخذ کیا کہ بادی النظر میں قابلِ دست اندازی جرم سامنے آتا ہے اور حقیقت صرف مکمل و شفاف تفتیش کے ذریعے ہی سامنے آ سکتی ہے۔