نئی دہلی:کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے مہاراشٹر میں شیوسینا لیڈر سنجے راوت سے ای ڈی کی پوچھ تاچھ اور ان پر ہو رہی کارروائی کے پیش نظر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے بدلے کے جذبہ سے متاثر قرار دیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے ذریعہ راجیہ سبھا رکن سنجے راوت جی کے خلاف بدلے اور دشمنی کے جذبہ سے متاثر کارروائی ہو رہی ہے جو قابل مذمت ہے۔ بی جے پی اپنی جمہوریت مخالف سیاست کے خلاف کھڑی آوازوں کو دبانے کے لیے ہر ہتھکنڈہ اختیار کر رہی ہے۔ لیکن جمہوریت میں جھوٹ اور استحصال کی لاٹھی زیادہ دن نہیں ٹکے گی۔
دراصل ای ڈی نے پاترا چال گھوٹالہ معاملہ میں پوچھ تاچھ کے لیے راوت کو اپنے جنوب ممبئی دفتر میں بلایا تھا۔ یہ معاملہ سنجے راوت کے ایک قریبی پروین راوت سے سیدھے جڑا ہوا ہے۔ پروین راوت ایک انفراسٹرکچر گرو آشیش کنسٹرکشن میں ڈائریکٹر رہا ہے۔ یہ کمپنی ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (ایچ ڈی آئی ایل) کی ہی ایک شاخ مانی جاتی ہے۔ ای ڈی کے مطابق ایچ ڈی آئی ایل سے پروین راوت کے اکاونٹ میں تقریباً 100 کروڑ روپے بھیجے گئے تھے۔ پھر پروین کے اکاونٹ سے الگ الگ رقم اس کے کچھ ساتھیوں، رشتہ داروں اور کمرشیل فرموں کو بھیجی گئیں۔ ای ڈی 4300 کروڑ کے پی ایم سی بینک گھوٹالے کی بھی جانچ کر رہی ہے۔