سنگارینی کالونی میں چھ سالہ کمسن لڑکی کی عصمت ریزی و قتل

   

دلخراش واقعہ پر مقامی عوام کا شدید احتجاج ۔ بھاری پولیس فورس متعین ۔ خاندان کی مددکا تیقن

حیدرآباد /10 ستمبر (سیاست نیوز) سعیدآباد سنگارینی کالونی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں 6 سالہ کمسن لڑکی کو عصمت ریزی کے بعد قتل کردیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی اور بھاری پولیس فورس کو متعین کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سنگارینی کالونی روڈ نمبر 5 کی ساکن 6 سالہ کمسن بچی جو گرین پارک اسکول کی طالبہ تھی کا اس کے پڑوسی 30 سالہ بی راجو نے کل شام اغوا کرلیا اور اپنے مکان میں عصمت ریزی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کردیا ۔ لڑکی جمعرات کی دوپہر سے مکان کے پاس کھیلنے کے دوران اچانک لاپتہ ہوگئی تھی جس کے نتیجہ میں اس کے ماں باپ نے اس کی تلاش شروع کردی تھی لیکن اس کا پتہ نہ چلنے پر کل شام سعیدآباد پولیس سے گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی ۔ لڑکی کے ماں باپ نے ان کے پڑوسی راجو پر شبہ کرنا کیا تھا کیونکہ وہ اپنے مکان کو مقفل کرکے اچانک غائب ہوگیا تھا ۔ راجو کے مکان کی تلاش کیلئے پولیس ٹیم کو بھی طلب کرلیا گیا اور مقامی افراد کی موجودگی میں پولیس مکان میں داخل ہونے پر کمسن بچی کی نعش کو بیڈشیٹ میں لپیٹا ہوا پایا ۔ نیم برہنہ نعش کی دستیابی پر پولیس نے کمسن لڑکی کے جسم پر دانتوں کے نشان پائے اور اسے عصمت ریزی و قتل قرار دیا ۔ نعش کی دستیابی سے مقامی عوام مشتعل ہوگئے اور نعش کو دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقلی کرنے میں رکاوٹ پیدا کرکے احتجاج شروع کردیا اور بعد ازاں پولیس ٹیم پر سنگباری کی جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ۔ مقامی پولیس کے علاوہ کوئیک ری ایکشن ٹیم اور دیگر پولیس فورس کو بھی علاقہ میں طلب کرلیا گیا تھا اور آج صبح سے عوام نے چمپاپیٹ کرمن گھاٹ روڈ پر احتجاج کرکے ٹریفک کی آمد و رفت کو روک دیا تھا ۔ شام تک احتجاج جاری رہا جس کے پیش نظر ضلع کلکٹر حیدرآباد مسٹر ایل شرامن نے پہنچ کر متاثرہ خاندان سے بات کی اور محکمہ مال کے عہدیداروں نے لڑکی کی ماں کو ایک لاکھ روپئے نقد رقم حوالے کیا جبکہ 3 ایکڑ زراعت کی اراضی اور ڈبل بیڈروم فلیٹ کا بھی وعدہ کیا ۔ سنگارینی کالونی میں قتل کے واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور مقامی عوام نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ اس علاقہ میں کھلے عام شراب فروخت کی جاتی ہے جس سے اس قسم کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ پولیس سعیدآباد نے عصمت ریزی اور قتل کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور نعش کو بعد پوسٹ مارٹم ورثہ کے حوالے کردیا ۔