مظلوم مزدور خاندان کو حکومت کی جانب سے پرسہ تک نہیں، انصاف کیلئے جمعیتہ العلماء کی جدوجہد جاری ، بیوہ سے ملاقات
نظام آباد :صدر جمعیت العلماء نظام آباد حافظ محمد لئیق خان ، سکریٹری حافظ حکیم نے آج ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ کے جمعیت کے ذمہ داران مفتی عمر عیسیٰ قاسمی ، حافظ کریم و دیگر ذمہ داروں کے ساتھ بانسواڑہ پہنچ کر حال ہی میں بڑے جانور وں کی منتقلی کے دوران شرپسندوں کے حملہ میں فوت ہونے والے رجب علی قریشی کی بیوہ سے ملاقات کی اور تفصیلات حاصل کیا ۔ موضع پلکل میں شرپسندوں نے قریشی برادرس پر حملہ کیا تھا جس میں رجب علی قریشی فوت ہوگئے تھے ان کے بھائی عبدالعزیز شدید زخمی ہوئے تھے اور اس واقعہ کے بعد پولیس نے اسے سڑک حادثہ قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کیا تھا اور جمعیت العلماء نے اس واقعہ کے بعد مسلسل حکومت سے اس معاملہ کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو جاری رکھی ہوئی ہے ۔ آج ایک وفد کے ذریعہ رجب علی کی بیوہ سے حافظ لئیق خان وجمعیت کے ذمہ داران نے ملاقات کی اور مکمل تفصیلات حاصل کی ۔ بعدازاں انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خاندان انتہائی کسمپرسی کی حالت میںہے رجب علی کے 5 معصوم بچے ہیں اور ان کے گھر کا کوئی پرُ سان حال نہیں ہے مزدوری کرتے ہوئے یہ زندگی بسر کررہے تھے ۔ یہاں تک کہ انہیں رہنے کیلئے مکان بھی نہیں ہے اگر یہ واقعہ کسی ریڈی یا رائو کے ساتھ پیش آتا تو اب اس کی اعلیٰ سطح کی تحقیق شروع ہوجاتی تھی ۔ حافظ لئیق خان نے مقامی رکن اسمبلی و اسپیکر اسمبلی پوچارام سرینواس ریڈی کے رویہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ ہوکر اتنے دن ہوگیا لیکن ابھی تک مقامی رکن اسمبلی پرُسہ نہیں دیا ۔ نہ ہی کوئی حکومت کی امداد پہنچی ہے انہوں نے فوری حکومتی سطح پر اعلیٰ تحقیق کا مطالبہ کرتے ہوئے ایکس گریشیاء دینے کا بھی مطالبہ کیااور ڈبل بیڈ روم فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ جمعیت العلماء اس خصوص میں اپنے جدوجہد کو جاری رکھی ہوئی ہے ۔
