سورج مشن آدتیہ L1 کے مدار میں دوسری بار اضافہ

   

بنگلورو:ملک کے پہلے سورج مشن ‘آدتیہ ایل 1’ کے زمین کے مدار سے متعلق دوسرا عمل منگل کی صبح کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) نے یہ اطلاع دی۔ ISRO کے مطابق، دوسرا مداری طریقہ کار بنگلورو میں واقع ISRO ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC) سے انجام دیا گیا۔اسرو نے آج یعنی منگل 5 ستمبر کو صبح 2.45 بجے آدتیہ L1 خلائی جہاز کے مدار میں دوسری بار اضافہ کیا۔ اب یہ زمین کے مدار میں 282 کلومیٹر x 40225 کلومیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی زمین سے اس کا سب سے کم فاصلہ 282 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ 40225 کلومیٹر ہے۔اسرو نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران سیٹلائٹ کو ماریشس، بنگلورو اور پورٹ بلیئر کے ISTRAC/ISRO گراونڈ اسٹیشنوں سے ٹریک کیا گیا۔ اب 10 ستمبر کو تقریباً 2.30 بجے، تیسری بار، آدتیہ L1 کے مدار کو بڑھانے کے لیے کچھ وقت کے لیے تھرسٹرس فائر کیے جائیں گے۔آدتیہ کو 2 ستمبر کو صبح 11.50 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے PSLV-C57 کے XL ورڑن راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا۔ لانچ کے 63 منٹ 19 سیکنڈ کے بعد، خلائی جہاز کو زمین کے 235 کلومیٹر x 19500 کلومیٹر کے مدار میں رکھا گیا۔تقریباً 4 ماہ کے بعد یہ 15 لاکھ کلومیٹر دور لگرینج پوائنٹ-1 پہنچے گا۔ اس مقام پر سورج گرہن کا کوئی اثر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یہاں سے سورج پر تحقیق آسانی سے کی جاسکتی ہے۔آدتیہ L1 کے سفر کو 5 پوائنٹس میں جانیں:پی ایس ایل وی راکٹ نے آدتیہ کو 235 x 19500 کلومیٹر کے زمینی مدار میں چھوڑا۔16 دن تک زمین کے مدار میں رہے گا۔ تھرسٹر کو 5 بار فائر کرکے مدار میں اضافہ کرے گا۔ایک بار پھر آدتیہ کے تھرسٹر فائر کریں گے اور یہ L1 پوائنٹ کی طرف بڑھے گا۔آدتیہ آبزرویٹری 110 دن کے سفر کے بعد اس مقام کے قریب پہنچے گی۔
تھرسٹر فائرنگ کے ذریعے آدتیہ کو L1 پوائنٹ کے مدار میں ڈالا جائے گا۔