سوشل میڈیا کے ذریعہ اسرائیلی پروپیگنڈے کا رد اور حقائق کا اظہار ضروری

   

فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی:مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد، 20 اکتوبر (پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عامہ نے کہا کہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوراندیشی تھی کہ آپؐ نے فرمایا کہ شہید کو غسل دینے کی ضرورت نہیں۔ آج فلسطینی مسلمانوں کو پینے کیلئے پانی دستیاب نہیں، تو شہیدوں کو اسی خون آلود جسم کے ساتھ اجتماعی قبروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ بلڈوزر کے ذریعے قبروں پر مٹی ڈالی جارہی ہے۔ آج ہماری کیا حالت ہے؟ یہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی نہیں بلکہ عالم اسلام کے بے غیرت مسلمانوں کی موت ہے۔ موت جسم سے روح نکل جانے کا نام نہیں بلکہ احساس کے نکل جانے کا نام ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہے۔ اگر جسم کے کسی حصہ پر تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا درد پورا جسم محسوس کرتا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کے خلاف جتنا غلط پروپیگنڈہ پوری دنیا میں ہورہا ہے، اس کا ستر فیصد حصہ ہندوستان سے ہورہا ہے۔ یہاں کا مین اسٹریم میڈیا جھوٹ بول کر اسرائیل کو خوش کررہا ہے۔ ہم اس جھوٹ کا جواب دیں۔ میڈیا کے ذریعہ حقائق کو سامنے لا کر ہم فلسطینی مسلمانوں کی تحریک کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ جب کہ اسرائیلی پروپیگنڈے کے تحت مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ یہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ غلط پروپیگنڈے کا جواب دیں۔ جو لکھ سکتے ہیں، وہ لکھیں۔ جو ویڈیو بناسکتے ہیں، وہ بنائیں۔ یہ حقوق انسانی اور حقوق اطفال کا مسئلہ ہے۔فلسطینیوں پر ظلم و ستم گذشتہ اسّی سال سے چل رہا ہے۔ وہاں کے بچوں کی پرورش بموں کی گھن گرج اور راکٹ کی آوازوں میں ہوتی ہے۔ فلسطینیوں کی تحریک آزادی دن بدن مضبوط ہوتے جارہی ہے۔ وہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے ایک زبردست چیلنج بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن آج اپنوں میں ہی سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟ اسرائیل سے مصالحت کی جائے۔ دنیا کے 57 عرب ممالک کے حکمران صرف تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے کہ فلسطینی مرتے ہیں تو مرنے دیں۔ ان حکمران کے اندر اتنی جرات نہیں کہ وہ فلسطینیوں کی مدد کریں۔ فلسطینی مسلمانوں کی جرات اس لیے برقرار ہے کہ وہ کسی دنیاوی مقصد کیلئے نہیں بلکہ وہ بیت المقدس کی حفاظت کیلئے شہید ہورہے ہیں۔ آج اگر اچانک کسی نوجوان کا انتقال ہوجاتا ہے تو پورے افراد خاندان اور محلے پر سوگ طاری ہوتا ہے۔ جب کہ فلسطینی مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ بیٹی کو بچاتے بچاتے باپ شہید ہورے ہیں اور کہیں تو پورا کا پورا خاندان اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ملبے میں دبا ہوا ہے۔