لڑکیوں کو بائیک پر بٹھا کر خطرناک کرتب بازیاں ، پولیس کی خاموشی پر عوام میں بے چینی
حیدرآباد 11 جولائی : ( سیاست نیوز ) : سوشیل نٹ ورکنگ سائٹس پر ریل تیار کرنے کا شوق اور جنون نوجوان نسل میں تباہی اور ان کی ہلاکت کا سبب تو ثابت ہورہا ہے ساتھ ہی دیگر شہریوں کیلئے نوجوان نسل کا جنون وبال جان ثابت ہورہا ہے ۔ موٹر سیکل و بائیک پر کرتب بازی سڑکوں پر اسٹانڈ کے ذریعہ چنگاریاں اڑانا یہ سب پرانی بات بن گئی ہے اب تو نوجوان لڑکیوں کو موٹر سیکل پر بٹھا کر خطرناک کرتب بازی کررہے ہیں اور اس خطرناک کھیل میں ایک دوسری پر بازی لے جانے کا شوق فیشن بنتا جارہا ہے جو شہریوں میں تشویش اور خوف کا سبب بن گیا ہے ۔ اس طرح کے خطرناک کرتب بازی ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے لگے ہیں ۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ پولیس بھی ان نوجوانوں کی اس حرکت پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ پولیس کی خاموشی اور عدم کارروائی اس طرح کی کرتب بازی کرنے والوں کی مبینہ حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر اس طرح کی کرتب بازی کو اپنی دلیری ظاہر کرکے ہٹس و لائیک حاصل کرنے کی کوشش جارہی ہے تاہم سماج کی جانب سے نوجوانوں کی ان حرکتوں کی شدید مذمت کی جارہی ہے ۔ شہر کے علاقہ جات مانصاحب ٹینک ، مہدی پٹنم ، گچی باولی ، عطا پور ، بنجارہ ہلز ، کیبل بریج اور آوٹر رنگ روڈ کی سرویس روڈس پر اس طرح کی غیر اخلاقی حرکتیں جاری ہیں ۔ باضابطہ لڑکیوں کو موٹر سیکل پر بٹھا کر خطرناک انداز میں کرتب بازی کی جاتی ہے اور رات کے اوقات ان نوجوانوں کو سڑک پر چلنے والوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ دیگر راہگیر شہریوں کا خیال کرتے ہیں بلکہ تیز و بے قابو رفتار سے دوسروں کو مسائل کا شکار بناتے ہوئے نکل جاتے ہیں ۔ شہریوں نے پولیس سے سوال کیا کہ آخر ایسے منچلے نوجوانوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی ۔ شہر کے سبھی چوراہوں اور اہم سڑکوں پر بڑے کیمرے لگے ہیں اور ان کیمروں کی مدد سے بڑے سے بڑے چور کو پکڑا جاتا ہے لیکن ان نوجوانوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ موٹر سیکل کرتب بازی میں مشغول اور خطرناک کھیل کھیلنے والوں کے خلاف کارروائی انجام دے ۔۔ ع