کانگریس رکن پارلیمنٹ وینکٹ ریڈی کا الزام، پنجاب نتائج کا تلنگانہ پر اثر نہیں ہوگا
حیدرآباد۔10۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے چیف منسٹر کی جانب سے بڑے پیمانہ پر تقررات کے اعلان کو انتخابی حربہ قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ بیروزگار نوجوانوں اور طلبہ کو کے سی آر کے اعلانات سے دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کے سی آر سابق میں بھی اس طرح کے اعلانات کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو اگر بیروزگار نوجوانوں سے ہمدردی ہو تو انتخابی منشور میں اعلان کردہ بیروزگاری الاؤنس کیوں جاری نہیں کیا گیا۔ دوسری مرتبہ برسر اقتدار آنے کے بعد تین برس گزر گئے لیکن ایک بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ اب جبکہ انتخابات قریب ہیں ، نوجوانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے 80,000 جائیدادوں پر تقررات کا ڈرامہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگار نوجوانوں میں بڑھتی ناراضگی کے سبب ایک نیا ڈرامہ تیار کیا گیا۔ پنجاب اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شکست کیلئے سدھو کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ اگر سدھو پر کنٹرول کیا جاتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فوجی جنرل سے سدھو کی ملاقات پر کافی ہنگامہ ہوا اور اس کا اثر الیکشن پر پڑا۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ پنجاب نتائج کا اثر تلنگانہ پر نہیں پڑے گا۔ اترپردیش میں 80 اور 20 فیصد کا نعرہ لگانے والی فرقہ پرست عناصر نے ماحول کو خراب کردیا ہے۔ کانگریس پارٹی کو فرقہ پرستی کے اس ماحول میں کامیابی نہیں مل سکی۔ سونیا گاندھی سے نتائج پر بات چیت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ وینکٹ ریڈی نے کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ نتائج سے دل شکستہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں پارٹی کے استحکام کے لئے طاقتور قائدین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا زوال یقینی ہے۔ ر