سوشیل میڈیا میں ’ ٹرولنگ ‘ کا رجحان سماجی بیماری میں تبدیل ہورہا ہے

   

کسی سے تعلق کے بغیر اس کی حمایت اور تذلیل کرتے ہوئے شیطانی خوشی اور فخر محسوس کیا جارہا ہے
لائیکس ، ویوز ، کمنٹس اور شیئرز کے چکر میں جذبات کو ٹھیس پہونچاتے ہوئے ماحول کو خراب کیا جارہا ہے
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 4 ۔ مئی : سوشیل میڈیا میں ٹرولنگ ایک سماجی بیماری میں تبدیل ہورہی ہے ۔ اہم شخصیات ہی نہیں بلکہ سوشیل میڈیا پر باقاعدہ سرگرم رہنے والے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ۔ چند بدمعاش لوگ سوشیل میڈیا پر دوسروں کی ساکھ کو نقصان پہونچانے میں شیطانی خوشی محسوس کررہے ہیں اور چند لوگ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے سوشیل میڈیا پر پاگل پن کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ ویوز ، لائیکس ، کمنٹس اور شیئرز کے ذریعہ پیسے کمانے کے لیے سوشیل میڈیا پر ٹرول کرنے کے بدنیتی پر مبنی واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ آئے دن کچھ ایسے واقعات بھی پیش آرہے ہیں جس کو وہ ٹرول کررہے ہیں ۔ ان کا حالیہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر بھی حالات کو ان سے جوڑتے ہوئے ان کی امیج کو داغدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جان بوجھ کر لوگوں کو آن لائن میں مشتعل کرنا یا کرانا ٹرولنگ کہلاتا ہے ۔ ٹرولنگ کا بنیادی مقصد کسی شخص یا گروپ کو نشانہ بنانا ہے ۔ ایسی چیزیں پوسٹ کر کے ان کی سماجی حیثیت کو نقصان پہونچانا ہے ۔ جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تاکہ وہ رسوا ہوجائے یا شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوجائے ۔ چند لوگ تو کچھ نہیں کرسکتے جو لوگ کچھ کرتے ہیں ۔ ان میں نقص نکالتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ ہر پہلو کے دو رخ ہوتے ہیں ۔ مگر مثبت رجحان کو نظر انداز کرتے ہوئے منفی رجحان کو فروغ دینے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ دوسروں کی ترقی ، خوشی اور کارناموں پر حسد کا شکار ہو کر کوئلہ بن جاتے ہیں ۔ ٹرولنگ کے معاملے میں چند لوگ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں بعض اوقات وہ جنہیں ٹرول کررہے ہیں ان کی نجی زندگی اور ارکان خاندان کو بھی درمیان میں گھسیٹ لیتے ہیں ۔ انہیں یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ وہ کیا کررہے ہیں ۔ بس دوسروں کی عزت اچھال کر بہت بڑا کارنامہ انجام دینا جیسا فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ٹرولنگ کے بھی کئی اقسام ہیں ۔ جھوٹے الزامات مثلا دوسروں کو نیچا دکھانا ، مذہبی منافرت کو فروغ دینے کی کوشش کرنا اور ساتھ ہی نا مناسب لوگوں و مقامات کو فروغ دینے کی کوشش کرنا اور ساتھ ہی نا مناسب لوگوں و مقامات کو تنازعات میں گھسیٹنا بھی شامل ہے ۔ ساتھ ہی پرانی نسل کے سیاستدانوں کو موجودہ سیاست میں گھسیٹنا پرانے علاقائی اور مذہبی تنازعات کو سامنے لانے کے لیے ٹرول کرنا ۔ کسی بھی مسئلہ کی تائید و مخالفت میں تبصرے کرنا بالخصوص مذہبی مسائل پر حمایت اور مشتعل کرنا بڑی تعداد میں فرضی اکاونٹس بنانا اور ان کے ذریعہ کسی کی حمایت و تذلیل کرنے کے لیے ٹرول کرنا ، عوام میں ایک قسم کی رائے پیدا کرنا ، مثال کے طور پر سیاست دانوں ، سیاست ، مذہبی مسائل کے بارے میں پیسوں کیلئے ٹرول کرنا ، ٹرول کے ذریعہ جذبات کو ٹھیس پہونچانا ، عوام میں بے چینی اور ذہنی تناؤ پیدا کرنے کے مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔۔