سوشیل میڈیا پر چکن برائیلر کی تصاویر کیساتھ چین میں برڈفلو کی غیرمصدقہ اطلاعات

,

   

خوفناک وباء کرونا وائرس سے شہر کے عوام میں بھی خوف ، چکن کے استعمال میں کمی ، خدشات کو دُور کرنے تاجرین کی کوشش

حیدرآباد۔2فروری(سیاست نیوز) کرونا وائرس کے وباء شہریوں میں پائے جانے والے خوف کے دوران برائلر چکن کی اموات میں اضافہ اور سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی تصاویر نے عوام کے خوف میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ چین میں کرونا وائرس کے ساتھ برڈ فلو کی توثیق کے بعد اچانک شہر میں سوشل میڈیا پر برائلر چکن کی تصاویر کے ساتھ غیر مصدقہ اطلاعات گشت کرنے لگی اور چکن سے دوری اختیار کرنے کے مشورے دیئے جانے لگے جو کہ عوام میں مزید خوف کا سبب ثابت ہونے لگ گئے۔چکن کے تاجرین نے بتایا کہ گذشتہ دو یوم کے دوران برائلر چکن کی اموات میں ہونے والے اضافہ نے بھی خدشات پیدا کئے ہوئے ہیں اور ان اموات میں ہونے والے اضافہ کے سبب وہ ابھی اس بات کی توثیق یا تردید کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کہ چکن کو کوئی بیماری لاحق ہونے لگی ہے۔چکن کے تاجرین کا کہناہے کہ عام طور پر فارم سے منتقلی کے دوران کچھ پرندوں کی اموات واقع ہوتی ہیں لیکن گذشتہ دو یوم کے دوران اس میں 5تا10 فیصد کا اضافہ دیکھا جا رہاہے جو کہ تشویشناک ہے لیکن بعض افراد کا کہناہے کہ درجہ حرارت میں ہونے والے اضافہ کے سبب بھی چکن کی اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے اسی لئے اسے برڈ فلو یا کسی اور بیماری سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں سوشل میڈیا پر چکن میں کرونا وائرس کی اطلاعات کے ساتھ ہی چکن کی فروخت میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے ۔ چین میں کرونا وائرس اور اس کے بعد اب برڈ فلو کی توثیق کے ساتھ ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ وبائی امراض شہر تک رسائی کرنے لگے ہیں لیکن اس بات میں صداقت نہیں ہے کہ کرونا وائرس کا کوئی متاثر شہر حیدرآباد یا تلنگانہ میں پایا گیا ہے مگر سابق میں حیدرآباد اور تلنگانہ میں برڈ فلو کی وباء تیزی سے پھیل چکی تھی جس کے سبب ہزاروں پرندوں کے علاوہ انڈوں کو بھی تلف کیا جاچکا ہے اسی لئے عوام نے چکن اور انڈوں سے احتیاط کرنا شروع کردیا ہے۔چکن کے تاجرین کا کہنا ہے کہ جب تک سرکاری طو ر پر کسی بیماری کی توثیق نہیں ہوتی وہ یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ پرندوں میں کوئی بیماری سرائیت کرچکی ہے جو کہ وبائی ہے لیکن پرندوں کی اموات میں ہونے والے اچانک اضافہ سے وہ خود خدشات میں مبتلاء ہونے لگے ہیں کیونکہ عام طور پر گرما کے عروج پر پہنچنے اور درجہ حرارت میں زبردست اضافہ کے بعد ہی چکن کی اموات میں اضافہ ہوتا ہے۔تلنگانہ کے وزیر صحت ایٹالہ راجندر پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ ریاست کے کسی بھی حصے میں کروناوائرس کی تاحال کیس منظر عام پر نہیں آیا ہے ۔ ریاست اس وباء سے پوری طرح محفوظ ہے۔ حکومت تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرچکی ہے ۔ ایٹالہ راجندر نے مزید کہا کہ مرکز سے معائنوں کے خصوصی کٹس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ مشتبہ افراد کے لعاب کے نمونے پونے کی لیباریٹری کو بھیجنے کے تاخیر طلب مرحلے سے بچا جاسکے۔