نئی دہلی: ملک کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس ایک بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کئی دہائیوں بعد، وہ کسی غیر گاندھی کو صدر منتخب کر سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق کانگریس کی موجودہ عبوری صدر سونیا گاندھی نے راجستھان کے وزیراعلیٰ اور سینئر لیڈر اشوک گہلوت کو صدر بننے کی پیشکش کی ہے۔ حالانکہ گہلوت کئی بار کہہ چکے ہیں کہ راہول گاندھی کو صدر بنایا جانا چاہئے۔ حال ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر راہول صدر نہیں بنتے ہیں تو پارٹی میں مایوسی ہوگی اور بہت سے لوگ گھر بیٹھ جائیں گے۔کانگریس کے نئے صدر کا انتخاب آئندہ ماہ 21 ستمبر2022 تک ہونا ہے۔ پارٹی اپنا تفصیلی پروگرام جلد جاری کرنے جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی نے منگل کو راجستھان کے سی ایم گہلوت سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔سمجھا جاتا ہے کہ اس میں انہوں نے گہلوت سے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے پر زور دیا۔ سونیا گاندھی نے گہلوت سے یہ بھی کہا کہ وہ خرابی صحت کی وجہ سے پارٹی کی ذمہ داری نہیں نبھا سکتیں۔تاہم گہلوت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ راہول گاندھی صدر کے عہدے کے لیے متفقہ انتخاب کریں۔سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد احمد آباد جاتے ہوئے گہلوت نے دہلی ہوائی اڈے پر کہا کہ وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ راہول گاندھی کے صدر بننے کے بعد ہی پارٹی کی تشکیل نو ہو سکتی ہے۔ ان کے صدر نہ بنے تو قائدین اور کارکنان مایوس ہوں گے۔ ہم راہول گاندھی پر پارٹی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالیں گے۔ دوسری جانب کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ اگر راہول گاندھی کانگریس صدر نہ بننے پر بضد ہیں تو انہیں کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔دوسری جانب راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے کانگریس صدر کے عہدے کی پیشکش والی بات پرکہا کہ میں یہ خبر میڈیا سے سن رہا ہوں۔ میں اس کے بارے میں نہیں جانتا میں وہ فرض ادا کر رہا ہوں جو مجھے دیا گیا ہے۔