نئی دہلی: ملک کی آزادی کے 75 سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں کارروائی نہ ہونے پر آج پارلیمنٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ آزادی کا امرت مہوتسو میں یہ کام بھی ہونا چاہیے ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ستیہ دیو پچوری نے یہاں لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اور ملک کی تمام ہائی کورٹس میں ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں کام نہیں ہو رہا ہے ۔ تحت کی عدالتوں میں ہندی اور ہندوستانی زبانوں میں کام ہو رہا ہے ۔ لیکن بڑی عدالتوں میں غریبوں، کسانوں، مزدوروں وغیرہ کو اپنے مسائل بتانے کا موقع نہیں ملتا اور انہیں اپنے مقدمات کی کارروائی اور فیصلوں کے بارے میں صرف وکیل کی معلومات پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ پچوری نے کہا کہ آئین بناتے وقت ہمارے آئین سازوں نے کہا تھا کہ فی الحال سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں کام انگریزی میں ہوگا لیکن بعد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔