الیکشن کمشنر رمیش کمار کی علحدگی پر ناراضگی، ہائی کورٹ کے احکامات پر حکم التواء سے چیف جسٹس کا انکار
حیدرآباد ۔10۔ جون(سیاست نیوز) آندھراپردیش کی وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت کو سپریم کورٹ میں آج وقت جھٹکا لگا جب اسٹیٹ الیکشن کمشنر کے تقرر کے مسئلہ پر ہائی کورٹ کے احکامات پر حکم التواء جاری کرنے سے انکار کردیا ۔ آندھراپردیش حکومت نے اسٹیٹ الیکشن کمشنر رمیش کمار کو آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ عہدہ سے ہٹادیا تھا ۔ اس مسئلہ پر آندھراپردیش ہائی کورٹ نے حکومت کے آرڈیننس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رمیش کمار کے دوبارہ اسی عہدہ پر تقرر کی ہدایت دی تھی ۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا لیکن چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس اروند بوبڈے کی زیر قیادت تین رکنی بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء سے انکار کرتے ہوئے آندھراپردیش حکومت کی یہ کہتے ہوئے سرزنش کی کہ دستوری عہدوں پر فائز افراد سے کھلواڑ نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس بوبڈے کے علاوہ جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ہریش کیش رائے تین رکنی بنچ میں شامل ہیں۔ عدالت نے حکم التواء سے انکار کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کی ہے۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت دو ہفتہ بعد کی جائے گی ۔ سپریم کورٹ کے تازہ موقف کے بعد رمیش کمار کو دوبارہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے عہدہ پر تقرر کے لئے جگن موہن ریڈی حکومت پابند ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے نامور وکیل مکل روہتگی اور راکیش دیویدی نے دلائل پیش کئے ۔ ان دونوں نے رمیش کمار کی علحدگی اور آرڈیننس کی اجرائی کی تائید کی ۔ چیف جسٹس بوبڈے نے سوال کیا کہ دستوری عہدوں پر موجود افراد کو کس طرح برطرف کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے حکومت کے رویہ پر سخت اعتراض کیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارک کیا کہ دستوری اداروں سے کھلواڑ مناسب نہیں ہے۔ آرڈیننس کے پس پردہ حکومت کے عزائم ٹھیک نہیں ہے۔ اس طرح کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے ۔
انہوں نے ہائی کورٹ کے احکامات پر حکم التواء سے انکار کیا ۔ نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو اندرون دو ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ سابق الیکشن کمشنر رمیش کمار کی جانب سے نامور قانون داں ہریش سالوے اور اے کے گنگولی نے پیروی کی ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد رمیش کمار نے آندھراپردیش میں مجالس مقامی کے انتخابات کو ملتوی کردیا تھا جس پر زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا اور جگن حکومت نے آرڈیننس جاری کرتے ہوئے رمیش کمار کو عہدہ سے ہٹادیا تھا۔