سپریم کورٹ میں وقف جائیداد کے حق میں فیصلہ

   


ہائی کورٹ کے احکامات پر حکم التواء، حفیظ پیٹ میں 50 ایکر اراضی کا تحفظ
حیدرآباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے حفیظ پیٹ میں واقع درگاہ حضرت سالار اولیاء کے حق میں وقف بورڈ کے موقف کی تائید کی ہے۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات پر حکم التواء جاری کردیا جس میں وقف بورڈ کے گزٹ کو معطل کردیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سینئر کونسل کی خدمات حاصل کیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی خصوصی دلچسپی سے سپریم کورٹ میں سینئر کونسل نے وقف بورڈ کا موقف پیش کیا جسے قبول کرلیا گیا۔ سپریم کورٹ کے احکامات 15 ڈسمبر کو جاری ہوئے تھے، جس کی کاپی آج موصول ہوئی۔ حفیظ پیٹ میں درگاہ حضرت سالار اولیاء کے تحت سروے نمبر 80 میں 50 ایکر اراضی موجود ہے۔ ہائی کورٹ نے 11 اگست کو عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے اراضی کے بارے میں وقف بورڈ کے گزٹ نوٹیفیکشن مورخہ یکم نومبر 2014 اور غیر قانونی قابضین کے خلاف کارروائی کے مکتوب کو معطل کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے وقف بورڈ کو درگاہ کی اراضی کے تحفظ میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اسٹانڈٹنگ کونسل ابو اکرم کو ہدایت دی تھی جس پر سینئر ایڈوکیٹ جے رام چندر راؤ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ دیگر اوقافی مقدمات کے سلسلہ میں وقف بورڈ بھرپور نمائندگی کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بعض غیر سماجی عناصر وقف جائیدادوں پر قبضے کر رہے ہیں۔ وقف بورڈ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ی جانب سے وقف بورڈ کو مکمل تعاون حاصل ہے اور قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سے رجوع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت وقف جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے اور رجسٹریشن کو روکنے کیلئے حال ہی میں احکامات جاری کئے گئے۔