نئے ضوابط مبہم اور آئینی مساوات کے منافی ، مرکزی حکومت اور یو جی سی کو نوٹس جاری
نئی دہلی: 29جنوری(یو این آئی )سپریم کورٹ نے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کے حالیہ ضابطے کے خلاف دائر کی گئی مختلف درخواستوں پر جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے اس پر روک لگا دی۔ ان درخواستوں میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ کمیشن نے ذات پات پر مبنی امتیاز کی غیر شامل تعریف اپنائی ہے اور بعض اقسام کو ادارہ جاتی تحفظ سے باہر رکھا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے. باگچی کی بنچ نے یو جی سی کے اس ضابطے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مرکزی حکومت اور یو جی سی کو نوٹس جاری کیا۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں امتیاز سے متعلق شکایات کی تحقیقات کرنے اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے تمام اداروں میں ”مساوات کمیٹیاں” تشکیل دینا لازمی بنانے والے نئے ضابطے 13 جنوری کو نوٹیفائی کیے گئے تھے۔یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کو فروغ دینے) ضابطہ 2026 میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ان کمیٹیوں میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، (ایس سی)، (ایس ٹی) کمیونٹیز کے ساتھ ساتھ معذور اور خواتین کے اراکین شامل ہونے چاہیئیں۔ یہ نیا ضابطہ یو جی سی (اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کو فروغ دینے) ضابطہ 2012 کی جگہ لے رہا ہے۔ 2012 کے ضابطے زیادہ تر مشاورتی نوعیت کے تھے۔ان درخواستوں میں اس ضابطے کو اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا تھا کہ ذات پات کے امتیاز کی تعریف صرف ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے اراکین کے خلاف امتیاز کے طور پر کی گئی ہے۔ درخواستوں میں کہا گیا کہ ”ذات پات پر مبنی امتیاز” کے دائرے کو صرف ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی تک محدود کر کے یو جی سی نے عملی طور پر ”عام” یا غیر مخصوص طبقات کے افراد کو ادارہ جاتی تحفظ اور شکایات کے حل سے محروم کر دیا ہے جنہیں اپنی ذات کی بنیاد پر مظالم یا تعصب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان ضابطوں کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں طلبہ گروپوں اور تنظیموں نے انہیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔مرکزی وزیرِ تعلیم نے اس معاملے پر یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ ضوابط کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ تاہم، سپریم کورٹ کی روک کے بعد اب گیند مرکز اور یو جی سی کے کورٹ میں ہے کہ وہ عدالت کے سامنے ضوابط کی آئینی حیثیت اور عملی ضرورت کو واضح کریں۔ عدالت نے اشارہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جا سکتی ہے تاکہ مسئلے کا متوازن اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔واضح رہے کہ نئے ضوابط کے تحت تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساواتی کمیٹیوں کا قیام لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں دیگر طبقات کے ساتھ خواتین اور معذور افراد کی نمائندگی بھی شامل ہے۔
صفائی کارکنوں کی موت کے معاملے میں
30 لاکھ روپے معاوضہ:سپریم کورٹ
نئی دہلی، 29 جنوری (یواین آئی) سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ میلا ڈھونے اور نالوں کی صفائی کے دوران ہونے والی اموات کے لیے معاوضے کو بڑھا کر 30 لاکھ روپے کرنے کا اس کا حکم پرانے معاملات پر بھی نافذ ہوگا، اگر ان میں ابھی تک معاوضہ طے نہیں ہوا ہے یا معاوضے کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ عدالت نے اکتوبر 2023 کے ‘بلرام’ معاملے میں ایسی اموات کے لیے معاوضے کی رقم 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی تھی۔ یہ وضاحت نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (نالسا) کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر ایک درخواست کے بعد آئی ہے ۔ نالسا نے کہا تھا کہ مختلف ہائی کورٹس کا اس معاملے پر الگ الگ نظریہ تھا کہ کتنا معاوضہ دیا جانا چاہیے ۔ مثال کے طور پر مدراس ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں 10 لاکھ روپے دیے ، جبکہ دہلی ہائی کورٹ نے دوسرے معاملے میں 30 لاکھ روپے دیے ۔ نالسا نے بتایا کہ دو تشریحات سامنے آرہی تھیں۔ ایک یہ کہ 20 اکتوبر 2023 سے پہلے مرنے والے متاثرین کے خاندانوں کو، جنہیں پہلے ہی 10 لاکھ روپے مل چکے ہیں، 20 لاکھ روپے کی اضافی رقم ملنی چاہیے ۔ دوسرا خیال یہ تھا کہ اگر معاوضہ پہلے ہی تقسیم کیا جا چکا ہے ، تو کوئی اضافی رقم نہیں دی جانی چاہیے ۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مقصد امتیاز کے خاتمے کا بتایا جا رہا ہے مگر طریقہ کار کی وضاحت نہ ہونے کے باعث اس نظام کے غلط استعمال کا امکان برقرار رہتا ہے۔ اسی پس منظر میں مختلف ریاستوں میں طلبہ کی جانب سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔