سپریم کورٹ نے یوپی حکومت اور الہ آباد ہائی کورٹ کو لگائی پھٹکار

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اتر پردیش کی جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں کو بغیر کسی تاخیر کے رہا نہ کرنے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اتر پردیش حکومت کے ساتھ ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ کو بھی پھٹکار لگائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے ان 853 قیدیوں کی تفصیلات دینے کو کہا ہے جو ریاست کی مختلف جیلوں میں 10 سال سے زیادہ عرصے سے بند ہیں سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اسے نہیں سنبھال پا رہے ہیں تو ہم یہ بوجھ اٹھا کر سنبھال لیں گے۔ سپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے کہا کہ آپ نے 853 مقدمات کا تجزیہ نہیں کیا اور آپ عدالت سے مسلسل وقت مانگ رہے ہیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے اب یوپی حکومت کو ان قیدیوں کی تفصیلات دینے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے گزشتہ ہفتے ہی چیف جسٹس این وی رمنا نے ملک میں زیر سماعت مقدمات کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے فوجداری نظام انصاف متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طریقہ کار پر سوالات اٹھانا پڑتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو طویل عرصہ تک بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رہنا پڑتا ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ ملک کے 6.10 لاکھ قیدیوں میں سے تقریباً 80 فیصد زیر سماعت ہیں۔