نئی دہلی17جون(سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ملک میں کورونا وبا کے علاج میں لاپرواہی اور اس بیماری سے ہلاک ہونے والے لوگوں کی لاشوں کی بد انتظامی کے تعلق سے ازخود نوٹس معاملے میں دہلی حکومت کو چہارشنبہ کے روز ایک مرتبہ پھر سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر،نرس کورونا وبا سے لڑ رہے ہیں اور حکومت ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں لگی ہے۔ عدالت نے کجریوال حکومت کو نیا حلف نامہ دائر کرنے کو کہا۔جسٹس اشوک بھوشن،سنجے کشن کول اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے دہلی حکومت کے ذریعہ پیش حلف نامہ پڑھنے کے بعد اسے سخت پھٹکار لگائی۔دہلی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ دارالحکومت میں سب کچھ اچھا ہے ۔
صورت حال بہت بہتر ہے ۔حکومت کی طرف سے پیش کردہ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل سنجے جین نے بنچ کو بتایا،‘‘ہم کورونا جانچ کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں،ہم احتیاطی اقدامات کررہے ہیں۔لیکن اس پر جسٹس بھوشن نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،‘‘ڈاکٹر ،نرس کووڈ-19 سے جنگ کررہے ہیں،لیکن آپ (کجریوال حکومت)ایف آئی آر درج کرانے میں مصروف ہے ۔اگر آپ فوجیوں کے ساتھ ہی اچھا سلوک نہیں کریں گے تو‘جنگ’میں فتح کیسے حاصل کریں گے ۔آپ نے ویڈیو بنانے والے ڈاکٹر کو برخاست کردیا ہے ۔آپ پیغام رساں،ڈاکٹر اور دیگر طبی عملے کو نشانہ بنارہے ہیں۔عدالت نے آگے کہا کہ دہلی حکومت ایک بہتر حلف نامہ دائر کرے ۔منصف بھوشن نے کہا کہ‘نشانہ بنانا’حکومت بند کردے ۔مسٹر جین نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ اروند کجریوال کی مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ساتھ ہوئی ملاقات کے بعد ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔جسٹس شاہ نے اس جانکاری کا بھی نوٹس لیا کہ کچھ اسپتالوں میں مریضوں کو چارسے دس دنوں کے درمیان بغیر جانچ کے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔انہوں نے اس معاملے میں گجرات کے احمدآباد واقع سول اسپتال کا بھی ذکر کیا۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 12جون کو بھی عدالت نے کجریوال حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے علاج میں لاپرواہی برتی جارہی ہے اور لاشوں کی بے حرمتی ہورہی ہے ۔