نامور وکلاء کیلئے وقت کا تعین، کپل سبل، ابھیشیک منوسنگھوی، راجیو دھون اور سلمان خورشید شامل
حیدرآباد۔/6 ستمبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے دستوری بنچ نے مسلم تحفظات مقدمہ کی سماعت کے سلسلہ میں وکلاء کو مباحث کا وقت الاٹ کیا ہے۔ دستوری بنچ 13 ستمبر کو مرکز کی جانب سے معاشی پسماندگی کی بنیاد پر فراہم کردہ 10 فیصد تحفظات اور متحدہ آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو دیئے گئے 4 فیصد تحفظات پر سماعت کا آغاز کرے گا۔ ابتداء میں مرکز کی جانب سے فراہم کردہ تحفظات پر مباحث کی سماعت ہوگی۔ توقع ہے کہ مسلم تحفظات پر مباحث کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔ مقدمہ کے سلسلہ میں دستوری بنچ نے جن وکلاء کو نوڈل کونسل مقرر کیا ہے ان میں محفوظ اے نازکی اور این جوشی شامل ہیں۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کے حق میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتوں نے نامور وکلاء ڈاکٹر ابھیشیک منوسنگھوی اور کپل سبل کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ان دونوں وکلاء کے علاوہ تحفظات کے حق میں ڈاکٹر راجیو دھون، راکیش دیویدی، ایس نرنجن ریڈی، سلمان خورشید، میناکشی اروڑہ، نکل دیوان اور ابھمنیو بھنڈاری کو مباحث کیلئے وقت الاٹ کیا گیا ہے۔ کپل سبل4 گھنٹے اپنے دلائل پیش کریں گے۔ تحفظات کی مخالفت میں 6 وکلاء کو مباحث کی اجازت دی گئی ہے جن میں آر وینکٹ رمنی، جی کرشنا کمار، سی موہن راؤ، ونئے نوارے، ویویک ریڈی اور پی ایس این مورتی شامل ہیں۔ مرکزی حکومت کے موقف پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھٹی کی سپریم کورٹ سماعت کرے گا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران جن دستاویزات، رپورٹس، سابقہ مقدمات کے فیصلوں کا حوالہ دیا جائے گا ان کی بھی فہرست تیار کی گئی ہے۔ درخواست گذاروں کی جانب سے 20 مختلف دستاویزی مواد سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ سابق وزیر محمد علی شبیر نے سابق مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے جو دستوری بنچ پر تحفظات کے حق میں دلائل پیش کریں گے۔ محمد علی شبیروائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت میں وزیر برقی تھے اور انہوں نے تحفظات کی فراہمی میں اہم رول ادا کیا تھا۔ر