سپریم کورٹ کے جسٹس بھٹی نے چندرا بابو نائیڈو کیس کی سماعت سے خود کو علحدہ کرلیا

   

نئی بنچ پر 3 اکٹوبر کو سماعت ، سپریم کورٹ میں ڈرامائی تبدیلی ، عاجلانہ سماعت کیلئے وکلاء کی اپیل
حیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ کی نئی بنچ 3 اکٹوبر کو صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کی درخواست کی سماعت کرے گی جس میں 371 کروڑ کے اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں سی آئی ڈی کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر کو کالعدم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کی ہدایت پر چندرا بابو کے وکیل سدھارتھ لوتراآج جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی این بھٹی کے اجلاس پر پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس ایس وی این بھٹی نے خود کو مقدمہ کی سماعت سے علحدہ کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ سے تعلق کے سبب جسٹس بھٹی نے خود کو مقدمہ کی سماعت میں شامل کرنے سے گریز کیا۔ اس تبدیلی کے فوری بعد چندرا بابو کے وکلاء ہریش سالوے اور سدھارتھ لوترا چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ سے رجوع ہوئے۔ چیف جسٹس کی زیر قیادت بنچ جس میں جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس منوج مشرا شامل تھے، وکلاء کو تیقن دیا کہ آئندہ منگل کو کیس کو کسی مناسب بنچ سے رجوع کیا جائے گا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائیل جج کو سی آئی ڈی کی جانب سے چندرا بابو نائیڈو کی تحویل سے متعلق اپیل پر فیصلہ سے روکا نہیں جاسکتا۔ جسٹس بھٹی کی سماعت سے علحدگی کے بعد سپریم کورٹ کی نئی بنچ 3 اکٹوبر کو از سر نو سماعت کرے گی۔
واضح رہے کہ سی آئی ڈی نے 371 کروڑ کے اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں چندرا بابو نائیڈو کو 9 ستمبر کو گرفتار کیا اور وہ راجمندری جیل میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ ان کی عدالتی تحویل 5 اکٹوبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ ابتدائی سماعت کے وقت جسٹس کھنہ نے چندرا بابو نائیڈو کے وکلاء سے کہا کہ آئندہ ہفتہ نئی بنچ سے مقدمہ کو رجوع کیا جائے گا۔ سدھارتھ لوترا نے 2 اکٹوبر کو سماعت کی خواہش کی جس پر جسٹس کھنہ نے کہا کہ ضروری اُمور کی تکمیل میں کچھ وقت لگے گا۔ عدالت کو 28 ستمبر اور 2 اکٹوبر کو تعطیلات ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل جی پرمود کمار نے کہا کہ نائیڈو کے خلاف ایف آئی آر اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی کی طرح ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کا نام اچانک شامل کیا گیا جبکہ یہ ایف آئی آر 21 ماہ قبل درج کی گئی تھی۔ قبل ازیں آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے 22 ستمبر کو چندرا بابو نائیڈو کی درخواست کو مسترد کردیا جس میں ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ نائیڈو کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انسداد رشوت ستانی قانون کے سیکشن 17A کے تحت قائد اپوزیشن کی گرفتاری کیلئے گورنر سے اجازت ضروری ہے تاہم سی آئی ڈی نے اجازت کے بغیر ہی گرفتاری عمل میں لائی۔ چندرا بابو نائیڈو کی اپیل کے مسئلہ پر آج سپریم کورٹ میں ڈرامائی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ سماعت کرنے والی بنچ جو جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس ایس وی این بھٹی پر مشتمل تھی اچانک جسٹس بھٹی نے خود کو سماعت سے علحدہ کرلیا۔ اس طرح چندرا بابو نائیڈو کی درخواست کی سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی ہوچکی ہے جبکہ ان کے وکلاء عاجلانہ سماعت کیلئے مساعی کررہے ہیں۔