نظام آباد12 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع نظام آباد اندلوائی منڈل کے گورارام گاؤں کے سرپنچ ہیملتا کے شوہر، سابق ایم پی پی اور مدی راج مہاسبھا کے ریاستی نائب صدر گوپی کا بہیمانہ قتل کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گوپی اپنے آبائی گاؤں لنگاپور جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک کار نے ان کی گاڑی کو تیز رفتاری سے ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔مقامی افراد کے مطابق یہ ٹکر اس شخص کی کار سے ہوئی جو رشتہ میں گوپی کا بھانجہ بتایا جاتا ہے اور جس نے گزشتہ سرپنچ انتخابات میں گوپی کی اہلیہ کے خلاف مقابلہ کیا تھا لیکن شکست ہوئی تھی۔ حادثہ کے مقام سے ایک چاقو ملنے اور نعش کو گاڑی سے کچھ فاصلے پر پڑی ہونے کے باعث گاؤں والوں نے اس واقعہ کو محض حادثہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے منصوبہ بند قتل قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ کچھ عرصہ سے لنگاپور گاؤں میں دو گروہوں کے درمیان ریت اور زمین کے معاملات پر کشیدگی اور جھگڑے جاری تھے اور اس سلسلے میں کئی مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صبح گوپی نے ایک فریق سے متعلق بورویل کو سیل کروایا تھا جس کے بعد گاؤں میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ دیہاتیوں کا الزام ہے کہ اسی پس منظر میں یہ واقعہ پیش آیا۔ گوپی کی دو بیویاں ہیں جن سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ گورارام گاؤں میں ان کی پہلی اہلیہ دو مرتبہ مسلسل سرپنچ منتخب ہو چکی ہیں جبکہ دوسری اہلیہ رواں سال سرپنچ منتخب ہوئیں۔ گوپی ماضی میں پیوپلزوار گروپ سے وابستہ رہے اور بعد ازاں عام زندگی میں شامل ہو کر کاروبار شروع کیا اور سیاست میں سرگرم ہوئے۔ وہ پہلے سابق رکن اسمبلی باجی ریڈی کے حامی رہے جبکہ حالیہ عرصہ میں کانگریس پارٹی کے ایک اہم مقامی قائد کے طور پر سرگرم تھے۔